گیلانی کادورہ، فائدہ کم نقصان زیادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر کے منتخب ہونے اور اقتدار سنبھالنے میں دو ماہ کا وقت لگتا ہے۔ اس عرصے کے دوران نومنتخب صدر کو اپنی نئی ذمہ داریوں کے لیئے تیار کیا جاتا ہے۔ انہیں عالمی سیاست، ملکی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں وزیر اعظم نامزد ہونے تک خود سید یوسف رضا گیلانی کو شاید علم نہیں تھا کہ قسمت کی ہما ان کے سر آن بیٹھے گی۔ یہ عہدہ ملنے کے بعد سے حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں کہ نئے وزیر اعظم کو واقعی سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ملی۔ ایک دورے کے بعد دوسرا۔ بریفنگز ہوئی ہوں گی لیکن ان کا بظاہر کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ لیکن جو بھی ان کے یہ دورے طے کر رہا ہے وہ ان کا کوئی زیادہ خیرخواہ دکھائی نہیں دیتا۔ نئے پاکستانی وزراء اعظم کی روایت رہی ہے کہ وہ حلف لینے کے بعد پہلے عمرہ اور پھر پرانے دوست چین کا سب سے پہلے رخ کرتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایسا نہیں کیا۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں دو ماہ قبل ہی مئی میں ملنے کے بعد دوبارہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی دعوت پر بھاگے بھاگے امریکہ چلے جانے پر تنقید نہ صرف ملکی ذرائع ابلاغ بلکہ مساجد تک میں علماء جمعے کے خطبوں میں بھی کر رہے ہیں۔ گلی گلی اس ناکام دورے کا چرچا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ق) نے اسے آج تک کیا جانے والا سب سے زیادہ غیرمنظم دورہ قرار دیا ہے۔ امریکی بھی کسی کی بےعزتی کرنا چاہیں تو کافی بھونڈے طریقے سے کرتے ہیں۔ ایک تو انہیں گھر بلایا تو دوسری جانب قبائلی علاقوں میں ایک اور مبینہ میزائل حملے کرکے اپنی پالیسی واضح کر دی۔ صدر بش صاحب منہ پر جو بھی ملکی خودمختاری کی یقین دہانیاں کرواتے رہیں اگر انہیں اپنا دشمن نظر آئے گا تو پھر وہ کسی کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ یہی پیغام شاید انہوں نے پاکستانی رہنما کو دینا تھا جو دے دیا۔ دوسری جانب اپنے پہلے سرکاری دورے پر وزیر اعظم بھی بظاہر کسی تیاری کے نہ ہونے کی وجہ سے ’ہواس باختہ‘ دکھائی دیئے۔ امریکی صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ’ہینڈ فل‘ کی بجائے ’ہینڈ پکڈ‘ دہشت گرد کہہ گئے۔ اس کے بعد بش صاحب نے خیریت اسی میں جانی کہ صحافیوں کے سوالات بھی نہ لیئے۔ وزیر اعظم کی انتہائی اہم امریکی ادارے کونسل آف فارن ریلیشنز میں کارکردگی بھی کوئی زیادہ حوصلہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ ان سے پوچھا کچھ گیا، جواب کچھ تھا۔ امریکہ کے سابق اعلی سول و فوجیوں پر مشتمل اس ادارے میں ان سے قبل گزشتہ برس ان کی رہنما محترمہ بےنظر بھٹو بھی بولی تھیں۔ دونوں سوالات جوابات کے شیشن دیکھیں تو فرق واضح ہے۔ اگر زبان کا مسئلہ تھا تو ہمارے رہنما اپنی زبان میں بولنے پر اصرار کیوں نہیں کرتے؟ ایرانی اور چینی رہنماؤں کو تو اس میں کوئی شرم کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ اخبار دی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایک دن میں وزیر اعظم کی نو نو مصروفیات طے کی گئی تھیں۔ اخبار کے مطابق یہ ایک ایسے وزیر اعظم کے لیئے ’مینو فل آف ولگیرٹیز‘ پر مبنی دورہ تھا جو اپنے دفتر کے بھی انچارج نہیں۔ امداد کے اعتبار سے بھی دیکھیں تو امریکی کانگریس نے جو دس برسوں کے لیئے پندرہ ارب ڈالر کی منظوری دی وہ پہلے سے زیر غور تھی۔ وزیر اعظم کی موجودگی کی وجہ سے اس امداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ صحافی تو ہمیشہ نکچڑے ثابت ہوئے ہیں لیکن جن ’مستقل‘ صحافیوں کو اس مرتبہ بھی حکومت ساتھ لے کر گئی انہوں نے وہاں سے شکایات بھری خبریں ہی روانہ کیں۔ ان صحافیوں کو شکایات نہ صرف میزبان ملک سے بلکہ اپنی ہی وزیر اطلاعات اور امریکہ میں پاکستانی سفیر سے ہی ہوئیں۔ اگر نئی حکومت اس بظاہر عجلت میں ہوئے دورے کا پبلسٹی کے اعتبار سے ہی دیکھیں تو نقصان زیادہ فائدہ کم ہوا۔ |
اسی بارے میں ’ججوں کی بحالی پر خوشخبری جلد‘19 July, 2008 | پاکستان گیلانی امریکی دورے پر روانہ26 July, 2008 | پاکستان ’پاکستان اب بھی مضبوط اتحادی ہے‘28 July, 2008 | پاکستان گیلانی سارک اجلاس کے لیے روانہ01 August, 2008 | پاکستان ’گیارہ ستمبر جیسے حملوں کا خدشہ ہے‘14 July, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||