’ہمیں تحقیقات کی ضرورت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد نے امریکی فوجی امداد میں مبینہ خورد برد کے سلسلے میں پاکستان میں تحقیقات ’کی ضرورت‘ کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم پاکستان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ چاہتا ہے تو وہ (اپنے طور پر) ان الزامات کی تحقیق کر لے۔’ جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کو تحقیقات کی کوئی ضرورت نہیں۔ ’اگر امریکی حکام تحقیقات کرنا چاہتے ہیں تو کریں، ہمیں اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی‘۔گزشتہ روز امریکہ میں کانگریس کی مختلف معاملات کی نگرانی کرنے والی ایک ایجنسی نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد میں کئی طرح کی مالی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔
امریکہ نے پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے اب تک اندازاً چھ ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سنہ 2004 سے جون 2007 کے دوران پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے دو ارب ڈالر کی رقم ایسی ہے جس کے خرچ کا مکمل حساب موجود نہیں ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادائیگی امریکہ پہلے سے خرچ شدہ رقوم پر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چوبیس جون کو امریکہ نے کوئلیشن سپورٹ فنڈ کے تحت پاکستان کو تین سو تہتر ملین ڈالر ادا کیے جن میں سے ایک سو انیس ملین سنہ دو ہزار سات سے واجب الادا تھے۔ امریکہ یہ رقم پاکستان کو افغان سرحدی خطے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے ادا کرتا ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ میں دفترِ خارجہ کے ترجمان نے افغانستان کے خفیہ ادارے کے حکام کے اس الزام کی سختی سے تردید کی جس میں انہوں نے صدر حامد کرزئی پر حملے میں پاکستانی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کی بات کی تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں امریکی حملے کی مشترکہ تحقیقات کے لیے پاکستانی ماہرین کابل گئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے خفیہ افغان اداروں کے اہلکاروں کے الزامات پر تعجب کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں حامد کرزئی پر حملے کی ذمہ داری افغان سکیورٹی اداروں کی ناکامی پر ڈالی گئی ہے۔ افغان خفیہ ادارے کے ایک ترجمان سید انصاری نے گزشتہ روز الزام عائد کیا تھا کہ ستائیس اپریل کو افغان صدر پر ایک تقریب میں حملے میں پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی ملوث ہے۔ ان کا موقف تھا کہ مشتبہ افراد کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی پاکستانی ایجنسی نے کی تھی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں گرفتار افراد میں اکثر افغان حکومت خصوصاً افغان وزارت دفاع کے اہلکار ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت کے بعض اراکین الزامات کی جنگ دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی ماہرین کا ایک وفد کابل میں ہے تاکہ مہمند ایجنسی میں گیارہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات میں امریکی فوجی حکام کا ساتھ دے سکے۔ امریکی فوجی حملے پر پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے میں دو چار روز مزید لگ سکتے ہیں۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں گے یا نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ گزشتہ دنوں صوبہ قندہار کےگورنر نے چند افراد کو ایک اخباری کانفرنس میں بطور پاکستانی پیش کیا اور الزام لگایا کہ یہ خودکش حملہ آور تھے، ترجمان کا کہنا تھا کہ میڈیا کہ سامنے اس طرح قیدیوں کو پیش کرنا ماضی کی طالبان حکومت کی روش ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیانات کی جنگ شروع کرنے کے علاوہ افغان حکام نے حکومت پاکستان کو ان قیدیوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس طرح دباؤ میں بیان دلوانے یا قیدیوں کی پریڈ کرانے سے نہیں جیتی جاسکتی ہے۔ | اسی بارے میں طالبان: پاک-افغان معلومات کا تبادلہ08 June, 2008 | پاکستان بد اعتمادی، الزام تراشیوں کی فضا کا فائدہ کس کو؟17 June, 2008 | پاکستان ’غیر ملکی کارروائی حملہ تصور ہوگی‘16 January, 2008 | پاکستان امن مذاکرات جاری رہیں گے05 June, 2008 | پاکستان ’امریکہ کومذاکرات پر تشویش نہیں‘24 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||