BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 June, 2008, 01:40 GMT 06:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو ارب ڈالر کا حساب نہیں: امریکہ
پاکستانی فوجی(فائل فوٹو)
’دہشتگردی کے خلاف جنگ کے ایک فنڈ کا اسّی فیصد پاکستان کو جاتا ہے‘
امریکہ میں کانگریس کی مختلف معاملات کی نگرانی کرنے والی ایجنسی گورنمنٹ اکاؤنٹبلٹی آفس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد میں کئی طرح کی مالی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

امریکہ نے پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے اب تک اندازاً چھ ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے برجیش اپادھیائے کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سنہ 2004 سے جون 2007 کے دوران پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے دو ارب ڈالر کی رقم ایسی ہے جس کے خرچ کا مکمل حساب موجود نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو سڑکوں اور بنکروں کی تعمیر کی مد میں پنتالیس ملین ڈالر کی رقم دی گئی لیکن اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ یہ رقم تعمیر پر خرچ ہوئی بھی یا نہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ائر ڈیفنس ریڈار خریدنے کے لیے دو سو ملین ڈالر سے زائد کی امداد دی اور یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ یہ ریڈار نظام دہشتگردوں کے خلاف کس طرح استعمال ہو سکتا ہے۔

گورنمنٹ اکاؤنٹبلٹی آفس کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے ہیلی کاپٹروں کی مرمت کا ایک ہی بل دو بار پیش کیا گیا جسے امریکی محکمۂ دفاع نے دونوں بار منظور کر دیا جبکہ سنہ 2005 میں بحریہ کے جوانوں کے کھانے کے لیے مختص رقم چار سو پنتالیس ڈالر سے بڑھا کر آٹھ سو ڈالر کر دی گئی لیکن محکمۂ دفاع نے اس اضافے کو بغیر کسی تحقیق کے منظور کر لیا جبکہ اسی دوران پاکستانی آرمی اور فضائیہ کے جوانوں کے کھانے کے بل کی شرح میں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

 اعدادوشمار کے مطابق جنوری 04 سے اگست 06 کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کردہ اخراجات کے بلوں میں سے صرف تین فیصد نامنظور کیے گئے اور ستمبر 06 سے فروری 07 کے دوران یہ شرح بڑھ کر چھ فیصد ہوگئی۔ تاہم مارچ سنہ 2007 سے جون 2007 کے دوران مسترد کیے جانے والے بلوں کی تعداد میں قریباً چار گنا اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ شرح بائیس فیصد تک جا پہنچی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی رسیدوں کی کڑی جانچ پڑتال ہونے لگی ہے اس وقت سے مسترد کیے جانے والے بلوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق جنوری 04 سے اگست 06 کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کردہ اخراجات کے بلوں میں سے صرف تین فیصد نامنظور کیے گئے اور ستمبر 06 سے فروری 07 کے دوران یہ شرح بڑھ کر چھ فیصد ہوگئی۔ تاہم مارچ سنہ 2007 سے جون 2007 کے دوران مسترد کیے جانے والے بلوں کی تعداد میں قریباً چار گنا اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ شرح بائیس فیصد تک جا پہنچی۔

رپورٹ کے مطابق نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامل اتحادیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جو فنڈ تشکیل دیا تھا اس میں سے اب تک اسّی فیصد رقم صرف پاکستان کو دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اکاؤنٹبلٹی آفس کی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی ایوان نمائندگان نے پاکستان کے لیے 15 کروڑ ڈالر کی اقتصادی امداد کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے امریکی ایوان نمائندگان نے ایک سپلیمنٹری بجٹ کی درخواست کی تھی جس میں پاکستان کے لیے150 ملین ڈالر کی امداد کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ امداد بنیادی طور پر ایک اقتصادی تعاون کا پیکج ہے جسے ایوان نمائندگان نے منظور کر لیا ہے۔

اسی بارے میں
امریکی قانون سازی پر تشویش
15 August, 2007 | پاکستان
دہشتگردی: جنگ جاری رہے گی
27 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد