BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 August, 2007, 01:40 GMT 06:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان سے امریکی ماہرین کو خدشات
پاکستان میں مظاہرہ(فائل فوٹو)
ماہرین کی صرف ایک تہائی تعداد نے کہا کہ پاکستان کو باز رکھنے کے لیے دھمکی دی جائے
امریکہ کے سو سے زائد خارجہ پالیسی کے ماہرین نے کہا ہے کہ آئندہ تین سے پانچ برسوں میں دہشت گردوں کے ہاتھ جوہری ہتھیار لگ جائیں گے اور انہیں یہ ہتھیار پاکستان کی وجہ سے دستیاب ہوں گے۔

ان ماہرین نے کہا ہے کہ صدر مشرف کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے اور ملک القاعدہ کا اگلا گڑھ بن جائے گا۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ایک بڑا طوفان آہستہ آہستہ جنم لے رہا ہے۔

عراق حملے کا سبق
 تراسی فیصد ماہرین گو کہ ایران کا موقف تسلیم نہیں کرتے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے لیکن صرف آٹھ فیصد فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔
عراق پر حملے سے سبق سیکھتے ہوئے یہ ماہرین یہ غلطیاں دہرانے کے حق میں نہیں۔ ان میں سے تراسی فیصد گو کہ ایران کا موقف تسلیم نہیں کرتے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے لیکن صرف آٹھ فیصد فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔

سٹڈی کروانے والے ادارے کے مطابق ساٹھ فیصد امریکی عراق پر حملے کو غلطی کہتے ہیں لیکن نصف کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اس پر فوجی حملے کے حق میں ہیں۔

جن سو ماہرین نے اس سٹڈی میں شرکت کی ہے ان میں امریکہ کی بڑی بڑی درسگاہوں کے پروفیسروں کے علاوہ دو سابق وزرائے خارجہ اور ایک قومی سلامتی کے سابق مشیر بھی شامل ہیں۔ ماہرین کی رائے کی یہ سٹڈی واشنگٹن کے ایک ادارے سینٹر فار امریکن پروگریس نے کی اور اسے ’فارن پالیسی‘ نامی جریدے نے شائع کیا ہے۔

ان کا ’پاکستان سے وابستہ خطرات‘ پر تو اتفاق رائے ہے مگر اس سے کس طرح نمٹا جائے اس کے لیے ان کے پاس کوئی ایک جواب نہیں ہے۔

ان ماہرین کی رائے میں پاکستان کے خفیہ ادارے اب بھی اسلامی شدت پسندوں سے تعاون کر رہے ہیں۔ مگر اس سٹڈی کے مطابق سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ تین سے پانچ برسوں میں دہشت گردوں کے ہاتھ جوہری ہتھیار لگ جائیں گے اور چوہتر فیصد ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار انہیں پاکستان سے دستیاب ہوں گے جبکہ بیالیس فیصد نے کہا کہ جنوبی کوریا سے، اڑتیس فیصد نے کہا کہ روس سے اور ایران کے بارے میں اس خدشے کا اظہار صرف اکتیس فیصد نے کیا۔

غلطی
 ماہرین میں سے صرف چھ فیصد نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔ ان کی رائے میں عراق پر حملہ ایک غلطی تھی۔

اس سٹڈی کے مطابق ماہرین کی صرف ایک تہائی تعداد نے کہا کہ پاکستان کو باز رکھنے کے لیے دھمکی دی جائے جبکہ اتنے ہی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ امداد دی جائے تاکہ وہ امریکہ کا اچھا اتحادی بنے۔

آدھے سے زیادہ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے امریکہ کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس سٹڈی کے مطابق امریکہ کے وہ اتحادی جنہوں نے امریکہ کی سلامتی میں بہت ہی کم کردار ادا کیا ہے ان میں سر فہرست روس ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان اور پھر سعودی عرب کا نام آتا ہے۔

اس کے مطابق ان ماہرین میں سے صرف چھ فیصد نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔ ان کی رائے میں عراق پر حملہ ایک غلطی تھی۔

اسی بارے میں
’عراق پالیسی ناقص ہے‘
11 April, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد