حامد کرزئی بیان پر احتجاج، سفیر طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے افغانستان کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان پر شدید احتجاج کیا ہے جس میں انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیئے افغان فوج کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی تھی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے افغان سفیر انورزئی کو پیر کی صبح طلب کرکے یہ احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس بیان پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ افغان صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب دونوں ہمسایہ ممالک نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مزید تعاون پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے واضع کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔ وزیر خارجہ کے بقول دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا بہترین حل ایک دوسرے کی خودمختاری کا دفاع کرنے اور ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا افغانستان غیرسنجیدہ دھمکی آمیز بیانات جاری کرنے سے اجتناب کرے۔ حامد کرزئی کی جانب سے تازہ بیان کافی عرصے کی خاموشی کے بعد سامنے آیا ہے۔ بعض مبصرین کے خیال میں اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت اپنی مشکلات پر قابو پانے میں ناکامی کی ذمہ داری اوروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دریں اثناء پاکستانی حدود کے اندر فوجی کارروائی کی دھمکی پر افغان صدر حامد کرزئی کو پاکستانی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بعض ارکان نے ان کی ذات کے بارے میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ تاہم بجٹ اجلاس کے دوران ان کے خلاف بعض ارکان کے مطالبے کے باوجود مذمت کی قرارداد پیش نہیں کی جا سکی۔ حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی انجنیئر امیر مقام نے اگلے مالی سال کے بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حامد کرزئی ویسے تو ہمیشہ سے ہی پاکستان مخالف بیانات دیتے رہے ہیں لیکن اس طرح کا اشتعال انگیز بیان پہلی بار سامنے آیا ہے۔ امیر مقام نے تجویز پیش کی کہ حامد کرزئی کے خلاف اس ایوان میں مذمت کی قرارداد منظور کی جانی چاہئے۔ قبائلی علاقوں سے رکن انجنیئر شوکت اللہ نے افغان صدر کے بارے میں سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ حامد کرزئی نے سرحدی علاقوں کے پشتونوں کی غیرت کو للکارہ ہے اور اس کا جواب انہیں ضرور دیا جائے گا۔ شوکت اللہ نے کہا کہ افغان سر زمین سے پاکستان قبائلی علاقوں پر ہونے والی بمباری میں جو پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں یا آئندہ ہوں گے پشتون عوام ان کا بدلہ حامد کرزئی سے خود لیں گے۔ حکومت اپنے شہداء کے لیے زر تلافی لے کر مطمئن ہو جاتی ہے لیکن ہم خون کا بدلہ خون سے لیں گے۔
برجیس طاہر نے کہا کہ اگر دفاع کی ذمہ دار قوتیں پاکستانی سرحدوں کا دفاع نہیں کر سکتیں تو پاکستان کو فوجی ریاست کیوں بنایا گیا ہے۔ اگر ملک کا دفاع ممکن نہیں تو پھر پاکستان کو فلاحی ریاست بنا کر تمام وسائل عوامی بہبود پر صرف کرنے چاہئیں۔ سینیٹ میں بھی حامد کرزئی کے لیے اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا جاتا رہا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر راحت حسین نے کہا کہ حامد کرزئی نے تیس سال تک پاکستان کا نمک کھایا ہے اور اب وہ اس کی لاج بھی نہیں رکھ رہے۔ سینیٹر راحت نے کہا کہ حامد کرزئی ایک کٹھ پتلی صدر ہیں اور ان کے ڈورے کہیں اور سے ہلائے جاتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ( ق) کے سینیٹر نثار میمن نے کہا کہ آج حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ حامد کرزئی جیسا شخص پاکستان پر حملے کا بیان دے رہا ہے۔ نثار میمن نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ اس طرح کے بیانات کیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قبائلی علاقوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے بجٹ میں مزید رقم مختص کرے۔ | اسی بارے میں علاقائی سالمیت کا دفاع کریں گے: پاکستان16 June, 2008 | آس پاس پاکستان سانپ پال رہا ہے: کرزئی26 September, 2006 | آس پاس پاکستانی منصوبے پر کرزئی کی تنقید 28 December, 2006 | آس پاس کرزئی پر راکٹوں سے قاتلانہ حملہ10 June, 2007 | آس پاس ’افغانستان کوطالبان سے خطرہ‘22 December, 2007 | آس پاس کابل: کرزئی پریڈ حملے میں محفوظ27 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||