دہشتگردی: جنگ جاری رہے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئیر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے بطور سویلین صدر حلف اُٹھانے کے باوجود دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور شدت پسندوں کو ملک میں پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آج ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ ملکی مفاد میں لڑی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں سیاسی جلسے جلوسوں پر پابندی ہوگی تاہم صوبائی حکومتوں نے مخصوص جگہیں مختص کی ہیں جہاں پر سیاسی جماعتیں اپنے جلسے جلوس کا انعقاد کر سکیں گی۔ ان جلسے جلوسوں سے پہلے انہیں صوبائی حکومتوں سے اجازت لینا ہوگی تاکہ اس ضمن میں مناسب حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ حکومت سیاسی سرگرمیوں کو محدود نہیں کرنا چاہتی تاہم ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کو یہ اقدام اُٹھانا پڑا۔ ایک سوال کے جواب میں جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ وزارت داخلہ نے سیاسی جماعتوں کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کرکے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا ہے تاہم چند سیاسی جماعتوں کے علاوہ اس بارے میں حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پانچ ہزار سات سو اڑتالیس افراد کو رہا کیا گیا ہے۔ سینتیس افراد ابھی تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں جن میں سے پانچ افراد کو خطرہ نقص امن کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود اور علی احمد کرد شامل ہیں جبکہ بتیس افراد کے خلاف قانون کی خلاف ورزی پر مقدمات درج ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ سوات میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور مقامی افراد اس ضمن میں فوج کی معاونت کررہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سوات میں فوجی آپریشن عام انتخابات سے پہلے ختم ہوجائے گا۔ سنیچر کے روز راولپنڈی میں ہونے والے دو خودکش حملوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کریں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ اب تک ملک کے بندوبستی علاقوں میں پنتالیس خودکش حملے ہو چکے ہیں جن میں سے چھبیس خودکش حملوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے اور اس میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ انیس خود کش حملوں کی تحقیات جاری ہیں۔ | اسی بارے میں کیا ان حالات میں الیکشن ممکن ہیں؟24 November, 2007 | پاکستان شریف خاندان مشرف کو کیا دے رہا ہے؟25 November, 2007 | پاکستان سوات انتخابات شیڈول کے مطابق 24 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی، پی سی او جائز: سپریم کورٹ23 November, 2007 | پاکستان سکیورٹی کی صورتحال بہتر؟22 November, 2007 | پاکستان ’رکاوٹوں کے باوجود ترقی جاری‘18 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی قومی مفاد میں لگائی‘10 November, 2007 | پاکستان سندھ احتجاج، پولیس کی شیلنگ09 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||