ایمرجنسی، پی سی او جائز: سپریم کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ کے ایک سات رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم، ججوں کے نئے حلف اور جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کے بعد کیے گئے تمام اقدامات کو جائز قرار دے دیا ہے۔ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے ایمرجنسی اور پی سی او کے خلاف ٹکا اقبال اور وطن پارٹی کے ظفراللہ خان کی طرف سے دائر کی جانے والے دو آئینی درخواستوں کو خارج کر دیا۔ ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، دہشت گردی اورخودکش حملوں کے باعث حکومت ملک میں امن وامان قائم کرنے اور شہریوں کو مکمل تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی تھی اور اگر تین نومبر کو ماورائے آئین اقدامات نہ کیے جاتے تو ملک و قوم کو سنگین نتائج دیکھنا پڑتے۔ عدالت کا کہا تھا کہ تین نومبر کو بالکل ویسے ہی حالات تھے جیسے پانچ جولائی انیس سو ستتر اور بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے میں تھے اور اُس وقت بھی ماورائے آئین اقدام کرنا پڑے تھے۔ بینچ نے اپنے فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کے علاوہ کراچی میں ایک عوامی ریلی پر بھی حملوں کا زکر کیا جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگرچہ ملک میں ایمرجنسی قومی مفاد میں لگائی گئی تاہم اسے جلداز جلد ختم کیا جانا چاہیے۔ پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ تمام جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا وہ ان جج نہیں رہے اور نہ ہی وہ کسی طور پر اپنے عہدے پر بحال نہیں ہوسکتے اور نہ ان کے کیس پر ازسرنو کارروائی ہوسکے گی۔ فیصلے کے مطابق برخاست ججوں نے اپنی حد سی تجاوز کیا اور سو موٹو نوٹس کے نام پر بہت سے انتظامی معاملات میں مداخلت کی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے جانے والے ججوں نے متعدد افسران کی معطلی اور تبدیلی کے علاوہ متعدد ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام رکوا دیا جس میں نیو مری سٹی اور لاہور کنال روڈ نے منصوبوں کے علاوہ متعدد منصوبے شامل تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ججوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی غیر موثر کردیا۔ صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے بعد کئے گئے تمام اقدامات کی توثیق کرتے ہوئے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے صدر اور الیکشن کمیشن ہو ہدائت کی کہ وہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد بروقت یقینی بنائیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار رہے گا کہ وہ صدر یا آرمی چیف کے کسی بھی اقدام کا جو آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوں اس پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔
اس سے پہلے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے ملک میں ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں پر دلائل سنے۔ ظفراللہ خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں آرٹیکل پندرہ، سولہ، اٹھارہ اور انیس بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہیں اور آئین کو معطل کر کے سولہ کروڑ عوام کے بنیادی حقوق غصب کیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہر شخص اقتصادی ترقی چاہتا ہے لیکن ایمرجنسی میں اقتصادی ترقی حاصل نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے ملک کا امیج خراب ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ جنرل مشرف کے دور حکومت میں پہلی بار پاکستان کی رکنیت انیس سو ننانوے میں معطل کی گئی تھی اور اب دو ہزار سات میں دوسری مرتبہ رکنیت معطل کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ بنیادی حقوق کے غصب ہونے پر انتخابات آزاد اور منصفانہ نہیں ہو سکتے۔ عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انیس سو ننانوے کے بعد ہونے والے انتخابات ایمرجنسی کے تحت ہوئے تھے۔ اس پر ظفراللہ خان نے کہا کہ پچھلے عام انتخابات ایمرجنسی میں ہوئے تھے لیکن اب ملک میں جمہوری سیٹ اپ ہے۔ اس پر عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے استفسار کیا کہ اس بار انتخابات عبوری سیٹ اپ کے تحت ہو رہے ہیں۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سترہویں ترمیم کے بعد جنرل مشرف صدر ہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ملک میں جمہوری سیٹ اپ ہے اور جمہوری سیٹ اپ میں انسانی بنیادی حقوق نہیں چھینے جا سکتے۔ انہوں نے اس کو آئین کے ساتھ قانونی دہشت گردی قرار دیا۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت امن و امان کی صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے تو پھر ایمرجنسی لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||