BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 April, 2008, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ کومذاکرات پر تشویش نہیں‘

دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق
محمد صادق کا کہنا ہے کہ مذاکرات، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ایک اہم جزو ہیں
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی حکومتی پالیسی پر امریکہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق کا کہنا ہے کہ مذاکرات، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ایک اہم جزو ہیں۔

دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا حکومت شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کی ترجیحات میں سیاسی عمل، سماجی ترقی اور پھر فوجی ایکشن شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ صرف فوجی طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اسی لئے، قبائلی عمائدین اور ان عناصر سے بات چیت کی جا رہی ہے جو تشدد کا راستہ ترک کر دینے پر آمادہ ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لئے صرف فوجی ایکشن کافی نہیں ہے۔ اسی لئے ہم قبائلی راہنماؤں اور اہم لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں ہماری سیاسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔‘

ترجمان کے مطابق سیاسی مذاکرات صرف ان لوگوں سے کرنا ممکن ہے جو تشدد چھوڑ دیں، اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور غیر ملکی عناصر کو اپنے ملک میں محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے میں مدد نہ دیں۔

محمد صادق نے کہا کہ تاریخ کا سبق ہے کہ صرف طاقت کا استعمال تشدد کو جنم دیتا ہے۔ تاہم ضرورت کے مطابق طاقت کا استعمال ہماری حکمت ملی کا حصہ ہے۔

امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات پر تشویش کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں محمد صادق نے کہا کہ حکومت پاکستان مذاکرات کی پالیسی کے بارے میں امریکی تشویش سے آگاہ نہیں ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا قبائلی جنگجو راہنما بیت اللہ محسود بھی مذاکرات کی اس پیشکش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ترجمان نے کہا کہ ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے جو تشدد کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔

محمد صادق کا کہنا تھا ’وہ عناصر جو دہشت گردی میں ملوث ہیں اور جو تشدد کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ نہیں، انکے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ اگر حکومت کی رٹ چیلنج کی جائے گی، تو اسکا مؤثر جواب دیا جائیگا۔‘

ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ روز افغان افواج کی جانب سے باجوڑ کے علاقے میں پاکستانی سرحدی چوکی پر فائرنگ کے واقعے پر افغان حکومت اور وہاں موجود اتحادی افواج کے ساتھ پر زور احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔

ترجمان کے بقول افغان حکومت نے وضاحت کی ہے کہ یہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے تاہم ترجمان نے بتایا کہ افغان حکومت کو بتا دیا گیا ہے کہ اس قسم کی کارروائی آئندہ برداشت نہیں کی جائے گی۔

پاکستان میں دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت کے منتظر بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی رہائی ممکن ہونے کے بارے میں سوال پر دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے سبجیت سنگھ کی سزا میں معافی کی درخواست زیر غور ہے جس پر فیصلہ وقت آنے پر کر لیا جائے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ افغانستان میں آٹے کی قلت کے پیش نظر حکومت، افغانستان کو بھارت سے واہگہ بارڈر کے راستے گندم درآمد کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد