’ایسے سمجھوتے کارگر نہیں ہوتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے پاکستانی حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈینا پرینو نے کہا ہے کہ امریکہ کا تجربہ رہا ہے کہ جس طرح کے سمجھوتے پاکستان حکومت اور طالبان کے درمیان ہو رہے ہیں وہ کارگر نہیں ہوتے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلٰی سرحد امیر حیدر خان ہوتی نے بار بار اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ صوبہ میں امن وامان کے مسئلہ کو طاقت کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرایا جائے گا۔ انہوں نے گزشتہ دنوں بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں طالبان کو ایک قوت کے طورپر تسلیم کیا تھا۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کو یہی مشورہ دے گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھے اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی کارروائیوں میں بھی رکاوٹ نہ ڈالی جائے کیونکہ یہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ یاد رہے کہ مولانا صوفی محمد کی رہائی کے بارے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت نے مقامی عسکریت پسندوں کے ساتھ سیاسی بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مولانا صوفی محمد کی رہائی کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان حکومت کا بیان تو نہیں دیکھا لیکن ماضی میں امریکہ نے دیکھا ہے کہ اس قسم کے سمجھوتے کارگر نہیں ہوتے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی دفتر خارجہ نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنماء صوفی محمد کی رہائی پر کہا تھا کہ جب بھی دہشت گردی سے جڑے کسی شخص کو بھی رہا کیا جاتا ہے تو وہ امریکہ کے لیے تشویش کی بات ہوتی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ انہوں نے اس ضمن میں اپنی پریشانیوں سے پاکستان حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ سرحد حکومت نے کالعدم مذہبی تنظیم تحریکِ نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو سوموار کے روز رہا کیا تھا۔ صوبائی حکومت کی طرف سے رہائی کے احکامات جاری ہونے کے بعد مولانا صوفی محمد کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے رہا کیاگیا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصہ سے صحت کی خرابی کی وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد مولانا صوفی محمد کو شاہی مہمان خانے لے جایا گیا جہاں انہوں نے سرحد کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی سے بند کمرے میں ملاقات کی۔ تحریک طالبان پاکستان نے مولانا صوفی محمد کی رہائی کا خیرمقدم کیا۔ تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ تنظیم کا شروع سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ مولانا صوفی محمد اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مولانا صوفی محمد تو رہا ہوگئے اور اب امید ہے حکومت مولانا عبد العزیز کو بھی جلد ہی رہا کر دے گی۔ | اسی بارے میں وزیرستان:’سینکڑوں ہلاک، ہزاروں بےگھر‘18 April, 2008 | پاکستان وزیرستان حملہ، پاکستان کا احتجاج12 March, 2008 | پاکستان ’نوے عسکریت پسند ہلاک‘18 January, 2008 | پاکستان امریکی حملے کا جواب دینگے: طالبان25 July, 2007 | پاکستان اب میدانِ جنگ پورا وزیرستان ہو سکتا ہے15 July, 2007 | پاکستان ’سرحد میں امن کمیٹیاں بنائیں گے‘08 June, 2007 | پاکستان افغانستان کا فوجی حل نہیں: نیٹو08 May, 2007 | پاکستان پاک افغان جرگہ: دوسرا دور شروع03 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||