امن مذاکرات جاری رہیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے ڈنمارک کے سفارتخانے پر بم حملے کے متعلق اس مبینہ بیان کا قبائلی علاقوں میں قیام امن کے لیے جاری مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ بات چیت کسی دہشت گرد سے نہیں کی جا رہی ہے۔ یہ بات وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے اسلام آباد میں آج ہفتہ وار بریفنگ میں کی۔ ایک صحافی نے جب ان سے دریافت کیا کہ القاعدہ نے گزشتہ دنوں ڈنمارک کے سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پاکستان میں شدت پسندوں کا اس کارروائی پر شکریہ ادا کیا ہے تو کیا اس سے حکومت کے قبائلی علاقوں میں جاری مذاکرات پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے؟ تو اس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی مذاکرات دہشت گرد یا القاعدہ یا اس کے پاکستان میں کسی دہشت گرد گروہ سے نہیں کیے جا رہے۔ ان کا اصرار تھا کہ امن مذاکرات مقامی محسود قبیلے یا عمائدین سے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات چیت کے لیے پہلے سے طے شدہ قواعد موجود ہیں اور اس سے عسکری حکمتِ عملی کی معاونت ہوتی ہے۔ اس بات چیت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا موقع ملے گا۔ تاہم اس تازہ بیان کا بات چیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ترجمان نے ڈنمارک کے سفارت خانے پر حملے کے بعد اس ملک کے ایک وفد کی پاکستان آمد کی تصدیق کی لیکن واضع کیا کہ اس میں کوئی تفتیشی عملہ شامل نہیں صرف سفارت کار اور تکنیکی اہلکار ہیں جو سفارت خانے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیں گے۔ محمد صادق نے تاہم اقرار کیا کہ یہ وفد اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سے بھی ملاقات کرے گا۔ انٹرنیٹ پر القاعدہ کے مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے پر بم حملے کی ذمہ دار القاعدہ تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈنمارک کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ اس نے توہین آمیز خاکوں کے لیے معافی نہیں مانگی تھی۔ بیان میں حملے کو ایک ’کافر سرکار کے خلاف انتقامی کارروائی‘ قرار دیا گیا۔ وزارت خارجہ کے اسلام آباد میں مجموعی طور پر بیاسی سفارت خانوں میں سے چونسٹھ کو انتہائی سکیورٹی والے ڈپلومیٹک انکلیو میں اراضی الاٹ کی گئی تھی جن میں سے پچیس نے وہاں کام شروع کر دیا ہے جبکہ باقی تعمیراتی عمل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ انکلیو میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے سات سو چوراسی ایکڑ پر مشتمل ایک توسیعی منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے جہاں بیس ممالک نے سفارت خانے تعمیر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ سفارت خانوں کو ان انکلیوز میں منتقل ہو جانا چاہیے جہاں انہیں تمام تر سہولتیں میسر ہوں گی۔ |
اسی بارے میں ’ایمبیسی دھماکہ خودکش حملہ تھا‘03 June, 2008 | پاکستان ایمبیسی دھماکہ، تحقیقات شروع03 June, 2008 | پاکستان دھماکہ: انٹیلیجنس ٹیم پاکستان کے لیے روانہ04 June, 2008 | پاکستان ڈنمارک ایمبیسی کے قریب دھماکہ، چھ ہلاک02 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||