BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 August, 2008, 10:57 GMT 15:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی ایس آئی عالمی کٹہرے میں

صدر جنرل پرویز مشرف
’آئی ایس آئی ایک منظم ادارہ ہے جو القاعدہ کی کمر توڑ رہا ہے: صدر جنرل پرویز مشرف
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آئی ایس آئی پر انگلی اٹھی ہے۔اس سے پہلے بھی بیرون ملک پاکستان کی اس سب سے بڑی خفیہ انٹیلیجنس ایجنسی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے تاہم پاکستان نے ہمیشہ آئی ایس آئی پر عائد ہونے والے الزامات اور شبہات کو مسترد کیا ہے۔

دو سال پہلے بی بی سی کو برطانیہ کی وزارت داخلہ کی ایک تحقیقاتی دستاویز ہاتھ لگی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ آئی ایس آئی طالبان اور القاعدہ کی بالواسطہ طور پر مدد کر رہی ہے اور اسے ختم کردینا چاہیے۔

یہ رپورٹ برطانوی وزارت داخلہ کے ماتحت چلنے والی ڈیفنس اکیڈمی کے ایک سینئر افسر نے تحریر کی تھی تاہم اس کے منظر عام پر آنے پر وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ دستاویز برطانوی حکومت اور وزارت داخلہ کے خیالات کی ترجمانی نہیں کرتی اور اسے بی بی سی تک پہنچانے کا بظاہر مقصد برطانیہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستانی فوج کا دوہرا کردار عالمی سطح پر قریبی مشاہدے کی زد میں ہے جس کے تحت وہ ایک طرف دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہے تو دوسری طرف آئی ایس آئی کے ذریعے ایم ایم اے کو سہارا دیکر طالبان کی مدد کررہی ہے ۔‘

دستاویز میں یہ بھی کہاگیا تھا کہ پاکستان آئی ایس آئی کے ذریعے بالواسطہ طور پر دہشتگردی اور شدت پسندی کو فروغ دے رہا ہے چاہے وہ لندن میں ہونے والے سات جولائی کے دھماکے ہوں یا افغانستان یا عراق ہو۔

جنرل پرویز مشرف نے بھی اس دستاویز پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی کہ آئی ایس آئی بالواسطہ طور پر القاعدہ یا طالبان کی مدد کر رہی ہے۔

آئی ایس آئی پر الزامات مسترد
 ’میں اسے مکمل طور پر 200 فیصد رد کرتا ہوں۔ کوئی بھی ہو برطانیہ کی وزارت خارجہ ہو یا کوئی جو آئی ایس آئی کو ختم کرنے کی بات کرے، میں اسے مسترد کرتا ہوں۔‘
صدر مشرف

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں اسے مکمل طور پر 200 فیصد رد کرتا ہوں۔ کوئی بھی ہو برطانیہ کی وزارت خارجہ ہو یا کوئی جو آئی ایس آئی کو ختم کرنے کی بات کرے، میں اسے مسترد کرتا ہوں۔‘

’آئی ایس آئی ایک منظم ادارہ ہے جو القاعدہ کی کمر توڑ رہا ہے، اگر آئی ایس آئی بہترین کام نہیں کر رہی ہوتی تو 680 لوگوں کو پکڑنا ممکن نہیں تھا۔‘

البتہ جنرل مشرف نے یہ بھی کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ آئی ایس آئی کے کچھ ریٹائرڈ افسران طالبان کی مدد کر رہے ہوں۔

اکتوبر 2006 میں برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے کمانڈرز نے اپنی حکومتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طالبان کو مدد اور پناہ گاہیں فراہم کرنے پر پاکستان سے سختی سے نمٹیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق اسی سال ستمبر میں ایک ہفتے تک طالبان سے شدید لڑائی کے بارے میں مرتب ہونے والی رپورٹ میں نیٹو کے کمانڈرز نے واضح طور پر کہا تھا کہ طالبان کی فوجی طاقت کا سرچشمہ آئی ایس آئی ہے جو طالبان کو مدد فراہم کرتی ہے۔

جون 2008ء میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کا الزام بھی افغان حکام نے آئی ایس آئی پر لگایا اور خود صدر کرزئی نے ایک پرہجوم نیوز کانفرنس میں پاکستان کو دھمکی دی کہ پاکستان سے دراندازی کرنے والے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لئے اپنی افواج پاکستان کے اندر بھیج سکتے ہیں۔

ابھی چند ہفتوں پہلے ہی کابل میں بھارت کے سفارتخانے پر خودکش حملہ ہوا اور پانچ بھارتی شہریوں سمیت چالیس افراد مارے گئے تو بھارت نے بھی اس کا الزام آئی ایس آئی پر لگایا اور بھارتی سیکریٹری خارجہ شیوشنکر مینن کے مطابق اس دھماکے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان چار سالوں سے جاری امن مذاکرات نچلی ترین سطح پر چلے گئے ہیں۔

امریکہ کے ایک تھنک ٹینک کونسل آف فارین ریلیشنز کے ایک تازہ تجزئے میں بھی آئی ایس آئی کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ’بہرحال ماہرین کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے متنازعہ علاقے میں بہت سے عسکریت پسند گروہوں کی مدد کی ہے جن میں سے بعض (امریکہ کے) محکمہ خارجہ کی غیرملکی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں۔‘

کونسل آف فارین ریلیشنز کے مطابق مقتول سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سمیت پاکستانی حکومت کے کئی افراد آئی ایس آئی کو ریاست کے اندر ریاست کے طور پر تعبیر کرتے رہے ہیں جو کہ حکومت کے قابو سے باہر رہ کر کام کرتی ہے اور اپنی مرتب کردہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہتی ہے۔

تاہم اس تجزئے کے مطابق نواز شریف ایسا نہیں سمجھتے اور ان کا ماننا ہے کہ آئی ایس آئی طاقت کے مرکز سے جڑی رہتی ہے اور وہی کرتی ہے جو حکومت یا فوج کہے۔

حقیقیت کچھ بھی ہو۔ ماضی کے برعکس اس بار الزامات میں شدت بھی ہے اور تواتر بھی اور وہ بھی اس قدر امریکہ کے دورے کے دوران پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار نے کہا کہ امریکہ کو آئی ایس آئی پر اعتماد نہیں اور یہ کہ امریکیوں کا خیال ہے کہ اگر وہ پاکستان کو دہشتگردوں کے کسی ممکنہ ٹھکانے پر حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دے دیتے ہے تو آئی ایس آئی کے بعض ایجنٹس طالبان کو اس کے بارے میں آگاہ کردیتے ہیں۔ ’اور انہوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔‘

ان کے بقول اصل مسئلہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی کو کنٹرول کون کرتا ہے؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد