آئی ایس آئی میں طالبان نہیں:شیری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں طالبان کےحامی عناصر موجود نہیں لہذا اس کی چھانٹی کی کوئی ضرورت نہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ایس ایم ایس کے ذریعے بات کرتے ہوئے حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ آئی ایس آئی کے کابل میں بھارتی سفارت خانے کے حملے میں ملوث ہونے یا اس سے کسی قسم کے تعلق ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ انہوں نے خود سے منسوب امریکی خبررساں ادارے اے پی کی اس خبر کی تردید کی جس کے مطابق انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ آئی ایس آئی میں طالبان حامی عناصر اب بھی موجود ہیں جنہیں جڑ سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں روسیوں کے خلاف افغانستان میں جہاد کے دور میں چند طالبان حامی عناصر اس میں گھس آئے تھے لیکن اب حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے بعد انہیں جڑ سے نکال دیا گیا ہے۔ ادھر پاکستان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر کی بھی سختی سے تردید کی ہے کہ افغان دارالحکومت کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں پاکستانی انٹیلجنس ایجنسی آئی ایس آئی ملوث ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کولمبو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ ایک فضول الزام ہے اور ہم اس کی تردید کرتے ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی ایجنسیاں کبھی بھی دہشت گردی میں ملوث نہیں رہیں۔ یاد رہے کہ جمعہ کی اشاعت میں نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی جاسوسی عملداروں نے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے عملداروں اور ان عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت یا رابطوں کا سراغ لگا لیا ہے جو عسکریت پسند کابل میں بھارتی سفارتخانے پر بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ نیویارک میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن مجتبٰی کے مطابق امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے عملداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان ایسے رابطوں یا مواصلات کا پکڑا جانا پختہ شواہد ہیں کہ پاکستانی انٹیلیجنس عملدار امریکہ کی طرف سے علاقے میں شدت پسندی ختم کرنے کی کوششوں کو ناکام کرنے میں مصروف ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے پاس ایسے واضح ثبوت کے علاوہ نئی اطلاعات ہیں جن کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس حکام مسلسل عسکریت پسندوں سے رابطے میں رہ کر انہیں ان کے خلاف ہونے والی امریکی کارروائیوں کے بارے میں بروقت خبردار کر دیتے ہیں اور انہیں قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں سے بچنے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اپنی اس تازہ رپورٹ میں نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی آئی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے درمیان ایسے رابطے یا مواصلات سات جولائي کو کابل میں بھارتی سفاتخانے پر بم دھماکوں سے قبل پکڑی گئي تھیں اور امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیفن آر کئپس کو کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملوں سے پہلے ہی اسلام آباد بھیجا گیا تھا، البتہ پکڑی ہوئی گفتگو یا مواصلات تفصیل سے کسی خاص حملے کے بارے میں خبردار نہیں کرتی۔ نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ امریکی حکام نے اس کی تصدیق کی ہے کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ جلال الدین حقانی کے گروپ نے کیا تھا جس کے تعلقات القاعدہ سے ہیں اور جو خود کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پھر سے منظم کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں حملے میں آئی ایس آئی ملوث: رپورٹ01 August, 2008 | پاکستان نیویارک ٹائمز کی رپورٹ’فضول‘01 August, 2008 | پاکستان ’کابل حملے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ‘12 July, 2008 | آس پاس ’آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط‘ 30 July, 2008 | آس پاس کابل: بھارتی خارجہ سیکریٹری کا دورہ13 July, 2008 | انڈیا جارحیت کا جواب دیا جائے: انڈیا23 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کا دورہ اور امریکی میڈیا29 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||