نیویارک ٹائمز کی رپورٹ’فضول‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ افغان دارالحکومت کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں پاکستانی انٹیلجنس ایجنسی آئی ایس آئی ملوث ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کولمبو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ ایک فضول الزام ہے اور ہم اس کی تردید کرتے ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی ایجنسیاں کبھی بھی دہشت گردی میں ملوث نہیں رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور غیر ملکی میڈیا ایسی خبریں شائع کر کے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ محمد صادق یاد رہے کہ جمعہ کی اشاعت میں نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی جاسوسی عملداروں نے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے عملداروں اور ان عسکریت پسندوں کے درمیاں ہونے والی بات چیت یا رابطوں کا سراغ لگا لیا ہے جو عسکریت پسند کابل میں بھارتی سفارتخانے پر بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ نیویارک میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن مجتبٰی کے مطابق امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے عملداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان ایسے رابطوں یا مواصلات کا پکڑا جانا پختہ شواہد ہیں کہ پاکستانی انٹیلیجنس عملدار امریکہ کی طرف سے علاقے میں شدت پسندی ختم کرنے کی کوششوں کو ناکام کرنے میں مصروف ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے پاس ایسی واضح ثبوتوں کے ساتھ نئی اطلاعات ہیں جو بتاتی ہیں کہ پاکستانی انٹیلیجنس حکام مسلسل عسکریت پسندوں سے رابطے میں رہ کر انہیں ان کے خلاف ہونے والی امریکی کارروائیوں کے بارے میں پیشگی بتاتے ہیں اور انہیں قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں سے بچنے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ امریکی اور پاکستانی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں آئي ایس آئی کے مبینہ طور عسکریت پسندوں سے رابطوں کے بارے میں اٹھ کھڑے ہونے والے تنازعے کے دوران گزشتہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں بااثر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی آئي ایس آئی کے پاکستان کے قبائلی علاقوں یا سرحد پار عسکریت پسندوں سے رابطے کے بارے میں یہ دوسری جامع رپورٹ ہے۔ اپنی اس تازہ رپورٹ میں نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی آئی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے درمیاں ایسے رابطے یا مواصلات سات جولائي کو کابل میں بھارتی سفاتخانے پر بم دھماکوں سے قبل پکڑی گئي تھیں اور امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیفن آر کئپس کو کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملوں سے پہلے ہی اسلام آباد بھیجا گیا تھا، البتہ پکڑی ہوئی گفتگو یا مواصلات تفصیل سے کسی خاص حملوں سے متنبہ نہیں کرتے تھے۔
اخبار نے افغان معاملات پر ایک باخبر امریکی عملدار سے بات چیت کا حوالہ دیا ہے جس نے آئی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے درمیاں ہونے والی پکڑی جانیوالی مواصلات یا رابطوں کے بارے میں کہا: ’ایسی بات چیت بہرحال ان شکوک و شبہات کی تصدیق کرتی ہے جو یہاں (امریکہ میں) کئي لوگوں میں پاۓ جاتے ہیں۔‘ اخبار نے کئي امریکی جاسوسی عملداروں سے اپنے انٹرویوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان عملداروں نے اپنے جاسوسی کے کام اور سراغ لگائي جانیوالی اطلاعات کی بنیاد پر پاکستانی انٹیلجنس کے عملداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیاں ایسی مواصلات کو کابل میں بھارتی سفارتخانے پر بموں کے حملوں سے جوڑا ہے- اخبار کے مطابق کچھ امریکی عملداروں نے غصے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی حکام افغانستان میں ہونیوالے تشدد کی مدد کر رہے ہیں جس میں امریکی افواج پر حملے بھی شامل ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ امریکی حکام نے اس کی تصدیق کی ہے کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ جلال الدین حقانی کے گروپ نے کیا تھا جس کے تعلقات القاعدہ سے ہیں اور جو خود کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پھر سے منظم کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر بش نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے اپنی حالیہ ملاقات کے دوران برہمی سے پوچھا تھا کہ آخر آئی ایس آئي پر کس کا کنٹرول ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت انہی مسائل کو ختم کرنےکے لیے آزمائش کر رہی ہے لیکن امریکی حکام کو شک ہے کہ یہ نئي حکومت آئي ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے درمیاں دیرینہ تعلقات ختم کر بھی سکے گي۔ | اسی بارے میں ’کابل حملے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ‘12 July, 2008 | آس پاس ’آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط‘ 30 July, 2008 | آس پاس کابل: بھارتی خارجہ سیکریٹری کا دورہ13 July, 2008 | انڈیا جارحیت کا جواب دیا جائے: انڈیا23 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کا دورہ اور امریکی میڈیا29 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||