BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 August, 2008, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آئی ایس آئی کو ساتھ لیکر چلیں‘
رچرڈ باوچر
رچرڈ باؤچر نے فوج اور آئی ایس آئی کا خاص طور پر ذکر کیا۔
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنا ہے تو حکومت، فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مل کر ایک سمت میں چلنا ہوگا۔

مسٹر باؤچر نے یہ بات کولمبو میں جنوب ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے اجلاس کے دوران کہی جہاں ہندوستان اور افغانستان نے کابل میں ہندوستانی سفارت خانے پر حملے کے لیے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو دمہ دار ٹھہرایا تھا۔

مسٹر باؤچر نے کہا کہ ’پاکستان کے لیے یہ بہت ضروری ہے اس کی حکومت کے تمام شعبہ ایک ہی سمت میں چلیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک نئی سیاسی قیادت نے حکمرانی سنبھالی ہے اور اس کے سامنے کئی بڑے چیلنج ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ’ فوج اور انٹیلی جنس سروسز سمیت دوسرے ادارے اس کے ساتھ مل کر کام کریں۔‘

’حکومت کو اگر واقعی دہشت گردی پر قابو پانا ہے تو اسے سب کو ایک ہی سمت میں لیکر چلنا ہوگا۔‘

امریکہ کو سارک میں مبصر کی حیثیت حاصل ہے اور اجلاس میں مسٹر باؤچر اس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

آئی ایس آئی کے کردار پر صرف ہمسایہ ممالک ہی نہیں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے بھی انگلی اٹھائی ہے اور ایک امریکی اخبار کےمطابق سی آئی اے کے نائب ڈائریکٹر نے حال ہی میں حکومت پاکستان کو اس بات کے شواہد پیش کیے تھے کہ آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد