BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 08:08 GMT 13:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مواخذے کا’اصولی فیصلہ‘، مسودہ تیار

اتحادی جماعتوں کے رہنماء
برسراقتدار اتحار کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان مذاکرات بدھ کو رات گئے تک جاری رہے

اتحادی جماعتوں کے نمائندوں نے صدر مشرف کے مواخذے کا ’اصولی فیصلہ‘ کیا ہے اور اس سے متعلق مسودے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

صدر پرویز مشرف کو ہٹانے اور ججوں کی بحالی کے بارے میں حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے نمائندوں کے درمیان جمعرات کو مسلسل تیسرے روز بھی مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔

وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی صبح سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی کے چیمبر میں ایک ملاقات میں مسودے کو حتمی شکل دی گئی۔ جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما اسحٰق ڈار وہ مسودہ لے کر اپنے قائد میاں نواز شریف کے پاس پنجاب ہاؤس پہنچ گئے۔

اس وقت سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد زرداری ہاؤس پہنچ گئے ہیں جہاں پر اتحادی جماعتوں کا سربراہی اجلاس ہوگا جس میں مسودے کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ اس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اتحادی جماعتوں کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال نے اسلام آباد میں زرداری ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عنقریب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز عوام کو اچھی خبر سنائیں گے۔

انہوں نے کہا جمہوری قوتیں جمہوریت اور قانون کی بالادستی چاہتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر مشرف اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اٹھاون ٹو بی کا استعمال کر لیں گے تو جمہوری قوتیں ان کا مقابلہ کریں گی کیونکہ وقت بدل چکا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اتحادی جماعتوں کے ایک رہنماء کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر کے مواخذے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کے خلاف مواخذے کی کارروائی اگلے ہفتے شروع کی جائے گی۔ اس رہنماء نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس گیارہ اگست کو بلائے جانے کی تجویز ہے۔

اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے اعلیٰ ذرائع نے بتایا تھا کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف چاروں صوبائی اسمبلیوں اور بعد میں قومی اسمبلی سے عدم اعتماد کی قرار دادیں منظور کروائی جائیں گی۔ ان کے بقول ایسی صورت کے بعد پرویز مشرف کا صدر کے عہدے پر رہنا اخلاقی طور پر نا ممکن ہوجائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صدر پر زور دیا جائے کہ وہ چاروں صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لیں۔

واضح رہے کہ صدر کا مواخذہ آئین کے آرٹیکل سینتالیس کے تحت کیا جائے گا۔ مواخذے کی تحریک پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے آدھے ارکان کی تائید ضروری ہے اور مواخذے کو کامیاب بنانے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں دو تہائی ارکان کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ برسراقتدار اتحاد کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان مذاکرات، جن میں صدر پرویز مشرف کے مواخذے پر تبادلہ خیال کیا گیا، بدھ کو رات گئے تک جاری رہے۔

اس سے قبل وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے آٹھ ججوں کی بحالی کے نوٹیفیکیشن کی خبروں سے بات چیت میں رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔

چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے سربراہان آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں چھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد بدھ کو شروع ہونے والی بات چیت میں مولانا فضل الرحمٰن بھی شامل ہوئے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی ناسازی طبع کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو پائے تھے۔

زداری ہاؤسبیرونی منظر
سیاسی مذاکرات کے دوران باہر کیا ہوتا رہا؟
آگےدیوارپیچھےگڑھا
آئی ایس آئی اور گیلانی حکومت کی مشکل
نقصان زیادہ، فائدہ کم
وزیر اعظم گیلانی کے امریکی دورے کا کیا بنا؟
. . . اور کتنی دور ہے
پاکستان، حکمراں اتحاد کے رہنماؤں کا اجلاس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد