BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 August, 2008, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ جج بحال‘

جسٹس میمن
سندھ ہائی کورٹ کے موجودہ قائم مقام چیف جسٹس عزیز اللہ میمن بطور جج کام کریں گے
صدر پرویز مشرف نے جسٹس انور ظہیر جمالی کو سندھ ہائی کورٹ کا نیا چیف جسٹس مقرر کر دیا ہے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اس حوالے سے وزارت قانون کی طرف سے ایک سمری صدر کو بھجوائی گئی تھی جسے منظور کر لیا گیا ہے اور اس کا نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائے گا۔

جسٹس انور ظہیر جمالی اُن معزول ججوں میں شامل تھے جنہوں نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو صدر پرویزمشرف کی طرف سے ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا تھا۔ وہ سینیارٹی کے حساب سے سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

اس پیش رفت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے موجودہ قائم مقام چیف جسٹس عزیز اللہ میمن بطور جج کام کریں گے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد سے ہے اور وہ کافی عرصہ تک پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ صدر نے سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں کی بحالی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان آٹھ ججوں میں سے پانچ مستقل اور تین ایڈیشنل ججز شامل ہیں۔

بحال ہونے والے ججوں میں پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سندھ ہائی کورٹ کےچیف جسٹس صبیح الدین اور سینیئر جج سرمد جلال عثمانی کا نام شامل نہیں ہے۔

جن ججوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بحال کردیئے گئے ہیں اُن میں فیصل عرب، سجاد علی شاہ، خلجی عارف حسین، امیر ہانی مسلم، ظفر شیرانی، سلمان انصاری اور عبدالرشید کلوڑ شامل ہیں۔

اٹارنی جنرل کے مطابق ان ججوں کی دوبارہ تعیناتی ہوگی اور چیف جسٹس سے حلف صوبہ سندھ کے گورنر جبکہ باقی ججوں سے حلف سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمری وزارت قانون کو بھجوائی جائے گی جہاں سے اس کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

وکیل رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے مطابق ان ججوں میں جسٹس سجاد شاہ، جسٹس سلمان انصاری اور جسٹس عبدالرشید کلوڑ سندھ ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل ججوں کی معیاد ایک سال تک ہوتی ہے اور اگر اس سمری پر دستخط نہ ہوتے تو آئندہ ماہ اُن کے معاہدے کی معیاد خود بخود ختم ہو جاتی۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے حکومتی پیشکش دوہراتے ہوئے تمام معزول ججوں کو آئین کے تحت دوبارہ حلف لینے کا کہا تھا۔

وزیر قانون کے مطابق تمام معزول ججوں کی سنیارٹی برقرار رہے گی اور تمام مراعات بحال کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ججوں کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں ہے جبکہ اُن کی دوبارہ تقرری آئین میں موجود ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد