BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 June, 2008, 16:55 GMT 21:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججز بحالی کے لیے آئینی ترمیم ضروری‘

فاروق نائیک
’ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد کے بارے میں آئین میں کوئی شق نہیں ہے‘
پاکستان کے وزیر قانون اور انصاف فاروق نائیک کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں قرارداد یا انتظامی حکم کے ذریعے ججوں کی بحالی کی تجویز قابلِ عمل نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ قرارداد کے ذریعے پارلیمنٹ وفاقی حکومت سے استدعا کر سکتی ہے جس پر عمل کے لیے حکومت پابند نہیں ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فاروق نائیک نے کہا کہ انتظامی حکم نامے کی پیچھے بھی کوئی ایکٹ یا آرڈیننس ہونا ضروری ہے، جس کے حوالے سے یہ بات ہو سکے۔ اگر فریقین چاہتے ہیں کہ ججوں کو واپس لایا جائے تو پھر اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین ججوں کی تقرری کی بات کرتا ہے، بحالی یا دوبارہ تقرری کا کوئی ذکر نہیں اس لیے آئین میں تبدیلی لانی پڑے گی اور ججوں کی بحالی کی شق شامل کرنا پڑے گی۔

انہوں نے بتایا کہ آئینی پیکیج کا مسودہ اتحادی جماعتوں سمیت تمام فریقین کو فراہم کیا گیا ہے مگر کسی نے بھی تاحال تجاویز نہیں دی ہیں۔ فاروق نائیک نے کہ’ہم نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنی تجاویز پیش کریں تاکہ ججوں کا مسئلہ حل کیا جا سکے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیمی مسودہ کوئی مقدس دستاویز نہیں ہے اس میں ترمیم کے لیے پیش ہونے والی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کی طرح ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی تعداد کے بارے میں آئین میں شق موجود ہے مگر ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد کے بارے میں آئین میں کوئی شق نہیں ہے ۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ہائی کورٹ کے ججز نے کبھی اس خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ وہ بحالی چاہتے ہیں اور اگر انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی تو انہیں بحال کر دیا جائے گا۔

سزائے موت کے خاتمے پر کچھ مذہبی علما اور رہنماؤں کی تنقید کے بارے میں فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ مذہبی رہنما اس وجہ سے یہ بات کر رہے ہیں کیونکہ یہ سزا قصاص، تعزیر یا حد میں آجاتی ہے جس میں ورثا کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملزم کو معاف کرسکتے ہیں۔

 ہائی کورٹ کے ججز نے کبھی اس خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ وہ بحالی چاہتے ہیں اور اگر انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی تو انہیں بحال کر دیا جائے گا۔
فاروق نائیک

ان کا کہنا تھا کہ ایسے دیگر جرائم بھی ہیں جس میں سزائے موت کا ذکر کیا گیا ہے اور اس میں ریاست ملزم کو معاف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ان کے مطابق اسمگلنگ اور دہشت گردی سمیت دیگر جرائم میں بھی سزائے موت ختم کر کے عمر قید شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں شامل ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پاکستان کا مستقل نمائندہ کوشاں ہے اور وہ پرامید ہیں کہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا جو ملزمان کو بے نقاب کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد