BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 June, 2008, 09:53 GMT 14:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی سے مالیاتی بل منظور

یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کا پہلا بجٹ ہے
سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد سولہ سے بڑھا انتیس کرنے کی تجویز اتوار کو قومی اسمبلی سے مالیاتی بل کے ساتھ منطور ہونے کے باوجود وزیر قانون فاروق نائیک نے کہا ہے کہ معزول جج صرف آئینی پیکج کی منظوری پر ہی بحال ہوں گے۔

اتوار کے روز قومی اسمبلی نے سالانہ بجٹ دو ہزار آٹھ اور نو کو قانونی جواز فراہم کرنے والے فائننس یا مالیاتی بل کی منظور دی جس میں وہ شق بھی شامل ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

مالیاتی بل کی شق نمبر اٹھارہ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد کا تعین کرنے والے انیس سو ستانوے کے ایکٹ میں ترمیم کر کے اس تعداد کو انتیس کر دیا جائے اور یہ ترمیم تین نومبر دو ہزار سات کے روز ہونے والی تبدیلیوں سے بھی بالا قرار دی جائے۔‘

ایاز امیر
 مالیاتی بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانا آئین اور عدلیہ کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ یہ تو آمروں کا طریقہ ہے کہ وہ درست کام کو بھی چور دروازوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایک منتخب حکومت کو آئین کا اس طرح سے تماشہ بنانا زیب نہیں دیتا۔
فائننس بل میں شامل جب یہ شق ایوان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی گئی تو حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کی جانب سے بیگم عطیہ عنایت اللہ نے کہا کہ ان کی جماعت ججوں کی تعداد بڑھانے کی حامی ہے تاہم اس کے لیے جو طریقہ کار حکومت نے اختیار کیا ہے وہ نا مناسب ہے۔ انہوں نے مالیاتی بل کے ذریعے ججوں کی تعداد میں اضافے پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی جماعت کی جانب سے اس بارے میں ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے اس شق کی مخالفت نہ کئے جانے کے بعد رائے شماری کے بغیر ہی مالیاتی بل کی دیگر شقوں کی طرح یہ شق بھی منظور کر لی گئی۔

ججز سپریم کورٹ ایکٹ میں اس ترمیم کی منظوری کے بعد حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے رکن ایاز امیر نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانا آئین اور عدلیہ کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ نکتہ اعتراض پر تقریر کرتے ہوئے ایاز امیر نے کہا کہ یہ تو آمروں کا طریقہ ہے کہ وہ درست کام کو بھی چور دروازوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایک منتخب حکومت کو آئین کا اس طرح سے تماشہ بنانا زیب نہیں دیتا۔

ایاز امیر کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے تجویز کے محرک وزیر خزانہ نوید قمر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافے کی تجویز پر تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ اس لئے اس موقع پر اتحادی جماعت کے ایک رکن کا اعتراض بلا جواز ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی فہمید مرزا نے ایازامیر کے نکتہ اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تجویز پر منظوری کے بعد بحث کرنا بے مقصد ہے اگر اتحادی جماعتوں کے درمیان اس بارے میں کوئی مسئلہ ہے تو اسے پارٹی کی سطح پر حل کیا جائے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما چودھری نثار نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی جماعت بھی ججوں کو اس طرح سے بحال کرنے کے حق میں نہیں ہے اور اس مقصد کے لئے صرف اور صرف انتظامی حکم کی حمایت کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آج ان کی جماعت نے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت فنانس بل کی مخالفت نہیں کی تاہم اگر اس شق پر رائے شماری کی نوبت آتی تو ان کی جماعت اس رائے شماری میں حصہ نہ لے کر اپنے مؤقف کا اظہار کرتی۔

وزیر قانون فاروق نائیک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل میں ججوں کی تعداد میں اضافے کی شق شامل کرنے کا مقصد ان تمام ججوں کے مالیاتی معاملات کو پیچیدگی سے محفوظ رکھنا تھا۔

وزیر قانون نے کہا کہ جہاں تک تین نومبر کو معزول قرار دیئے گئے ججوں کا تعلق ہے، تو وہ اس آئینی پیکج کی منظوری کے بعد ہی بحال ہوں گے جس پر حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد