BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 June, 2008, 10:51 GMT 15:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی تعداد: درخواست خارج

سینیٹ نے ججوں کی تعداد بڑھانے سمیت فنانس بل کے ذریعے قوانین میں مجوزہ بعض ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے قومی اسمبلی میں فنانس بل کے تحت ججوں کی تعداد میں اضافے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی ہے۔

اس درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے کی۔عدالت نے کہا کہ فنانس بل میں ان ججوں کی تعداد بڑھانے کی صرف تجویز دی گئی ہے لہذا یہ ناقابل سماعت ہے۔

درخواست گذار اظہر مقبول شاہ نے بدھ کو درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ستر کے تحت ججوں کی تعداد بڑہانے کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور قانون سازی ہونے کے بعد ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی میں پاس ہونے کے بعد اُسے سینیٹ میں بھیج دیا جاتا ہے جس کے بعد اسے منظوری کے لیے صدر کو بھیج دیا جاتا ہے۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے بل پہلے قومی اسمبلی میں پیش ہونے دیا جائے اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے پارلیمنٹ کو موقع دیا جانا چاہیے۔

درخواست گذار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ججوں کی تعداد فنانس بل کے ذریعے بڑھائی گئی تو پھر سینیٹ اور صدر کا کردار ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد کے پاس سینیٹ میں اکثریت نہیں ہے اس لیے وہ فنانس بل کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ججوں کی تعداد سترہ سے بڑھا کر انتیس کرنے کی تجویز دی تھی اور اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون سے مشاورت کی تھی۔

دریں اثناء پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے سمیت فنانس بل کے ذریعے قوانین میں مجوزہ بعض ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بارے میں پیش کی گئی تحریک استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دی ہے۔

سینیٹ نے ایوان صدر اور قومی سلامتی کونسل کے بجٹ میں اضافہ نہ کرنے سمیت متعدد بجٹ تجاویز کی بھی منظوری دی ہے۔

سینیٹ میں بجٹ پر بحث مکمل ہونے کے بعد بدھ کے روز سینیٹرز نے تحاریک اور مختلف قراردادوں کے ذریعے بجٹ میں مختلف ترامیم کی سفارشات، تجاویز اور مطالبات پیش کئے۔

واضح رہے کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے بجٹ کے بارے میں اختیارات صرف اس پر بحث تک ہی محدود ہیں اور بجٹ کو قانونی جواز فراہم کرنے والی دستاویز فنانس بل میں ترمیم سینیٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔

اسی بنا پر حزب اختلاف کے تین سینیٹرز نے تحریک استحقاق کے ذریعے فنانس بل کا معاملہ ایوان بالا میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ کی آڑ میں ملکی قوانین میں ستائیس ترامیم فنانس بل کے ذریعے منظور کرنے کی کوشش کی ہے جس میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے جیسا اہم معاملہ بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد