’بھیک مانگ کر بجٹ پیش کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے اکہتر ارب اور انیس کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا۔پچھلے چھ سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ بجٹ سیشن کے دوران حزب اختلاف کا شور شرابے اور فنانس بل کی کاپیاں پھاڑنے والا اسمبلی میں موجود نہیں تھا۔ یہ شاید پہلی موقع ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں بجٹ حزب اختلاف کے بغیر پییش کیا گیا ہے اس لیے ایوان میں صوبائی وزیر خزانہ عاصم کرد گیلو کی بجٹ تقریر کے دوران مکمل خاموشی تھی۔ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف میں ایک ہی رکن ہیں سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند اور وہ بھی ایک ہی مرتبہ اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت آئے تھے جب اراکین اسمبلی حلف لے رہے تھے اس کے بعد وہ اسمبلی کے اجلاس میں کبھی نہیں آئے۔ آج بھی انھوں نے چھٹی کی درخواست دی تھی۔
سابق پانچ سالہ دور میں حزب اختلاف میں بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے اراکین جن میں موجودہ وزیر اعلی موجود ہوتے تھے تو بجٹ تقریر کے دوران شدید نعرہ بازی کی جاتی ڈیسک بجائے جاتے اور بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑا دی جاتیں اور بقول اس وقت کے اپوزیشن اراکین کے یہ احتجاج مسلم لیگ کی ناقص پالیسیوں کے خلاف کیا جاتا تھا۔ ماضی میں مسلم لیگ قائد اعظم جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی مخلوط حکومت نے خسارے کے پانچ بجٹ پیش کیے اوراب پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی مخلوط حکومت میں بھی تقریباًپانچ ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اصل خسارہ آٹھ ارب روپے سے زیادہ کا تھا لیکن وفاقی حکومت کی تین ارب روپے کی امداد کے بعد یہ خسارہ کم ہو کر پانچ ارب روپے تک رہ گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پندرہ ارب چھہتر کروڑ روپے رکھے گئے ہیں لیکن اس بجٹ میں نیا ترقیاتی منصوبہ کوئی نہیں ہے زیادہ تر رقم پہلے سے جاری منصوبوں کے لیے مختص ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میر عاصم کرد گیلو بی بی سی کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کےذمے بلوچستان کے اربوں روپے ہیں اگر صوبے کو مل جائیں تو بلوچستان حکومت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے سے جاری منصوبوں پر کافی لاگت ہو چکی ہے اور چونکہ وہ منصوبے بھی عوامی مفاد کی خاطر شروع کیےگئے ہیں اس لیے انہیں جاری رکھا گیا ہے۔
سٹیٹ بینک سے اوور ڈرافٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے بات کی گئی ہے کہ یا تو اسلام آباد یہ رقم ادا کرے اور یا اس قرضے کو آسان قرض یا سافٹ لون میں تبدیل کر دیا جائے۔ آزاد اراکین اسمبلی کے رہنما اور صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو نے کہا ہے کہ معمول کے مطابق وہ بجٹ سے پہلے وفاقی حکومت سے بھیک مانگنے گئے تھے جس کے بعد بلوچستان حکومت بجٹ پیش کرنے کے قابل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مثال بالکل ایسے ہے جیسے عید کے دنوں میں دیہاتوں کے فقیر شہروں کا رخ کرتے ہیں اور عید کے دنوں میں پیسے کما کر واپس گاؤں چلے جاتے ہیں۔ بلوچستان کی حکومتیں ایسی ہی ہیں جون کے مہینے میں اسلام آباد جا کر بھیک مانگتے ہیں اور پھر بجٹ تیار ہوتا ہے وگرنہ دیگر تین صوبوں کی طرح بلوچستان کا بجٹ بھی پہلے پیش کر دیا جاتا۔ سردار اسلم بزنجو بلوچستان میں واپڈا کے وزیر ہیں لیکن انھوں نے بجٹ تقریر سے پہلے واپڈا کے خلاف باتیں کیں اور کہا کہ ان کے پاس کوئی احتیارات نہیں ہیں لوگوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ | اسی بارے میں باہر احتجاج اندر بجٹ منظور29 June, 2004 | پاکستان بلوچستان اسمبلی: سخت احتجاج23 June, 2004 | پاکستان بلوچستان کا بجٹ، بھاری خسارہ20 June, 2006 | پاکستان بلوچستان: ترقی کے لیے تیرہ ارب 21 June, 2007 | پاکستان سینیٹ: بلوچستان اور عدلیہ کا مسئلہ17 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||