بلوچستان: ترقی کے لیے تیرہ ارب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور نعرہ بازی کے دوران وزیر خزانہ نے آئندہ سال کے لیے صوبے کا مسلسل چوتھا خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے جس کا کل حجم تریسٹھ ارب روپے ہے جبکہ خسارہ دس ارب روپے بتایا گیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے بلوچستان اسمبلی میں سال دو ہزار سات دو ہزار آٹھ کے لیے بجٹ تقریر شروع کی تو حزبِ اختلاف نے نعرہ بازی شروع کر دی۔ اراکین اسمبلی نے ڈیسک بجائے اور بجٹ دستاویز پھاڑ کر پھینک دیے اس سال بجٹ میں تیرہ اعشاریہ چار بلین روپے ترقیاتی مد میں رکھے گئے ہیں جو پچھلے سال کی نسبت بیس فیصد زیادہ بتائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چالیس ارب روپے سے زیادہ رقم غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھی گئی ہے۔ بلوچستان حکومت کا یہ متواتر چوتھا خسارے کا بجٹ ہے جس میں امن و امان کے لیے چار اعشاریہ پانچ بلین روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت پندرہ فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ سال بجٹ پیش کرنے کے بعد وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے کہا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے صوبائی سطح پر مختص فنڈز تین ارب دس کروڑ سے بڑھ کر تین ارب ستر کروڑ ہو گئے ہیں اور وفاقی سطح پر یہاں جاری کارروائیوں پر جو خرچہ ہو رہا ہے وہ اس سے علیحدہ ہے۔
بلوچستان میں رقم کا بڑا حصہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر صرف ہوتی ہے جن میں فرنٹیئر کور، پولیس فرنٹیئر کانسٹبلری، بلوچستان کانسٹبلری اور بلوچستان ریزرو پولیس شامل ہے۔ اس سال بجٹ میں تین ہزار دو سو بہتر نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اور پنشن میں پندرہ سے بیس فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صوبے کے ریوینیو میں اضافہ ہوا ہے گزشتہ سال روینیو ایک اعشاریہ پانچ بلین تھا جبکہ اس سال دو اعشاریہ آٹھ بلین روپے ہے۔ بلوچستان حکومت کا سال دو ہزار چھ دوہزار سات کا کل بجٹ انسٹھ ارب روپے کا تھا جس میں قریباً گیارہ ارب روپے کے لگ بھگ خسارہ تھا۔ اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل یہ دعوٰی کیا جاتا رہا ہے کہ بلوچستان کو اس کے حق سے زیادہ دیا جا رہا ہے اور یہ کہ بلوچستان میں ایک سو اڑتیس ارب روپے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ صوبہ اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے سٹیٹ بینک سے مسلسل اوور ڈرافٹ لے رہا ہے اور یہ کہ بعض اوقات صوبے کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے رقم نہیں ہوتی۔ بلوچستان حکومت کے اس بجٹ سے حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ حزب اقتدار کے کئی اراکین مطمئن نہیں تھے۔ وزیرِ تعلیم عبدالواحد صدیقی اور جعفر مندوخیل نے کہا کہ اس مرتبہ کوئی نئی ترقیاتی سکیم نہیں رکھی گئی۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ سب لفاظی ہے اور بجٹ صرف چار اضلاع تک محدور ہے باقی چوبیس اضلاع کے لیے کچھ نہیں ہے۔ گزشتہ سال نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جمہوری وطن پارٹی کے دو اراکین پہلی مرتبہ نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی لیکن اس مرتبہ وہ حزب اختلاف کے ساتھی نہیں رہے بلکہ بقول ان اراکین کے وہ آزاد بنچوں پر بیٹھے۔ | اسی بارے میں صوبۂ سرحد کا مرکز سے مطالبہ17 June, 2007 | پاکستان سرحد: 114 ارب کا ٹیکس فری بجٹ16 June, 2007 | پاکستان سندھ: امن و امان کیلیے انیس ارب15 June, 2007 | پاکستان ہنگامہ آرائی میں پنجاب کا بجٹ14 June, 2007 | پاکستان ’سیاسی استحکام ترقی کے لیےناگزیر‘11 June, 2007 | پاکستان ’اقتصادی ترقی کو کوئی خطرہ نہیں‘10 June, 2007 | پاکستان عوام کے لیے 111 ارب کا’ریلیف‘09 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||