BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 June, 2007, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوبۂ سرحد کا مرکز سے مطالبہ

سرحد اسمبلی(فائل فوٹو)
یتیموں اور بیواؤں کے لیے یونین کونسل کی سطح پر وظیفہ سکیم شروع کی جائیگی جبکہ بیواؤں کی کمرشل پراپرٹی پر ٹیکس معاف کردیا گیاہے:صوبائی وزیر
صوبہ سرحد میں چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل ایم ایم اے کی حکومت نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد کے دو کروڑ عوام کی ’حق تلفی‘ فوری طور پر بند کردے اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صوبے کو اس کی بجلی کا منافع ادا کرے تاکہ صوبے میں غربت اوردیگر مسائل کاخاتمہ ہوسکے۔

پشاور میں اتوار کو ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ شاہ راز خان نے بتایا کہ صوبہ سرحد کا بجٹ الیکشن کا سال ہونے کی باوجود خسارے کا بجٹ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لفظوں کا ہیر پھیر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خسارے کو پورا کرنے کے لیے اسی ماہ عالمی بنک صوبائی حکومت کو سات ارب 80 کروڑ روپے کی امداد دے گا جس سے ان کے بقول بجٹ خسارے کی بجائے سرپلس ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مرکز بجلی کی خالص آمدن کی مد میں ثالثی ٹریبونل کا فیصلہ نہ مان کر صوبے کے دوکروڑ عوام کی حق تلفی کررہا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ملک میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم وفاقی وزراء آفتاب احمد خان شیرپاؤ، امیر مقام اور سلیم سیف اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد پورنے کرنے کے لیے صوبے کے حقوق کے حصول میں روکاوٹیں نہ ڈالیں۔

صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس کا زیادہ تر حصہ صوبے کے پن بجلی میں منافع کے بارے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے پن بجلی کے معاملے میں بطور ’ضامن‘ کردار ادا کیا لیکن اس کے باوجود ٹربیونل کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے۔

شاہ راز خان کے مطابق وفاقی محاصل میں صوبے کو ناقابل تقسیم پول سے آمدن سینتالیس عشاریہ چھ تین ارب روپے، جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں پانچ عشاریہ آٹھ ارب روپے، پن بجلی کا منافع چھ ارب روپے، گیس و تیل کی رائلٹی تین ارب روپے اور وفاقی مالی اعانت کی مد میں چھ عشاریہ دو ارب روپے ملیں گے۔ صوبائی کل محاصل چھ عشاریہ دو ارب روپے بنتے ہیں جس میں اخراجات جاریہ اکسٹھ ارب روپے ہیں ، صوبائی اخراجات بتیس عشاریہ آٹھ ارب روپے اور ضلعی اخراجات اٹھائیس عشاریہ دو ارب روپے ہیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں غریب مزدورں کے لیے جن کی ماہانہ تنخواہ چار ہزار روپے ہے سی پی فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں سو روپے ماہانہ حکومت کی طرف سے اور سو روپے مزدور خود ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیسہ مزدوروں کی فلاح پر خرچ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یتیموں اور بیواؤں کے لیے یونین کونسل کی سطح پر وظیفہ سکیم شروع کی جائیگی جبکہ بیواؤں کی کمرشل پراپرٹی پر ٹیکس معاف کردیا گیاہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد