سینیٹ: بلوچستان اور عدلیہ کا مسئلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ کے اجلاس میں منگل کو بلوچستان اور عدلیہ کے حوالے سے جذباتی اور تقاریر کی گئیں اور سینیٹ ارکان نے اُن سے مکمل سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ میر جان جمالی اور مسلم لیگ ق کے سینیٹر نے بلوچوں کو حقوق نہ ملنے کی صورت میں علیحدگی کا مطالبہ کرنے کی دھمکی دی۔ پیپلزپارٹی سےتعلق رکھنے والے سینیٹر صفدر عباسی نے بھی بجٹ پر بحث کے دوران ججوں کو بحال نہ کرنے اور مختلف معاملات میں میرٹ کو نظرانداز کرنے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا کر حزب اختلاف اور اقتدار کے بعض ارکان سے داد سمیٹی۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر جان جمالی نے اپنی جذباتی تقریر میں کہا کہ اگر مرکز نے بلوچستان کو اسکے حقوق سے اب بھی محروم رکھا تو وہ وقت دور نہیں جب وہاں جانے کے لیے پاکستانیوں کو پاسپورٹ درکار ہو گا۔ جان جمالی کا کہنا تھا کہ اب صرف چند گنے چنے سیاسی رہنما رہ گئے ہیں جو بلوچستان میں رہتے ہوئے وفاق کی بات کرتے ہیں لیکن اگر مرکز کی پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو پھر ’ہم بھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوں گے‘۔ جان جمالی نے کہا کہ ’میرا تعلق اس خاندان سے ہے جس کا انیس سو چونتیس سے محمد علی جناح کے ساتھ تعلق ہے جب وہ قائد اعظم بھی نہیں بنے تھے لیکن اب میرے لیے بھی وفاق کی بات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے بلوچ تحریک کے رہنما اکبر بگٹی کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اکبر بگٹی کے مطالبات کے مطابق بلوچستان کو اسکے وسائل کے مطابق رقم ادا کر دے ورنہ وقت بہت تیزی سے ہمارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے اور اب بات خودمختاری سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ جان جمالی نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ وزیراعظم سے ملنے جا ر ہے ہیں اور اس ملاقات میں انہی معاملات پر بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ’میری دعا ہے کہ اس ملاقات سے ہماری توقعات ہوری ہوں ورنہ حالات خراب ہو سکتے ہیں‘۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی اس جذباتی تقریر پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بیشتر ارکان نے انکی حمایت کا اعلان کیا اور ان کی نشست پر جاکر جان جمالی کو مبارکباد دی۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر صفدر عباسی نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پریس میں حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ میرٹ کو نظرانداز کر رہی ہے۔ صفدر عباسی نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں ایسے فیصلے ہوئے ہیں جن سے عدل کے اصولوں سے انحراف کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے تین نومبر کو جو کچھ کیا اس سے دو آئینی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ ایک پرویز مشرف کی بطور صدر آئینی حیثیت سے متعلق ہے اور دوسری اعلی عدلیہ کے ساٹھ ججوں کی برطرفی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو اعلان بھوربن کے مطابق ہی بحال ہونا چاہیے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آئینی ترمیم ججوں کی بحالی کے لیے ضروری ہے تو یوں ہی سہی لیکن ایسا فوراً ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی میں مزید تاخیر عوام برداشت نہیں کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’معیشت کیلیے اچھا سال نہیں تھا‘10 June, 2008 | پاکستان ’دفاعی بجٹ کا خاکہ اسمبلی میں‘09 June, 2008 | پاکستان بجٹ کےموقع پر یوم سیاہ کا اعلان04 June, 2008 | پاکستان آئینی پیکج بجٹ کے بعد اسمبلی میں03 June, 2008 | پاکستان بجٹ سر پر مگر وزیرِ خزانہ کوئی نہیں14 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||