BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 February, 2008, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعلیم کے لیے بجٹ بڑھانے کا وعدہ

طلبہ
’تعلیمی بجٹ کا دس فیصد خواندگی کے منصوبوں پر خرچ ہوگا‘
پاکستان میں اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں حصہ لینے والی سولہ بڑی سیاسی جماعتوں نے منتخب ہونے کی صورت میں تعلیم کے فروغ کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا چار فیصد بجٹ مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

یہ وعدہ ان سے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے بچوں کے فلاح کے لیے کام کرنے والے ادارے یونیسکو اور ایک مقامی غیرسرکاری تنظیم پیلڈیٹ کے زیر اہتمام ’تعلیم سب کے لیے‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس میں لیا گیا۔

کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ان میں سے جو سیاسی جماعت اقتدار میں آئے گی وہ تعلیم کے لیے بجٹ دو اعشاریہ چار سے بڑھا کر آئندہ تین برسوں میں چار فیصد کرے گی۔

اس کے علاوہ یہ جماعتیں تعلیمی بجٹ کا دس فیصد خواندگی کے منصوبوں اور مفت تعلیم کی فراہمی، سو فیصد بچوں کا سکول میں داخلے اور سال دو ہزار پندرہ تک تعلیم کی شرح پچاسی فیصد تک لانے کی کوشش کریں گی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں سینیٹر مشاہد حسین نے اپنی جماعت کا منصوبہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام ملک میں خواندگی پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سے بڑھا کر پینسٹھ کرنے اور نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شرحِ خواندگی پچاسی فیصد تک لانے کی کوشش کی جائےگی

شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر مشترکہ اعلامیے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تعلیم کا اہم شعبہ نظرانداز ہوا۔مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے نوجوانوں کو مناسب مواقع ملیں تو وہ اعلٰی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

ان سولہ سیاسی جماعتوں کی نمائندگی عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی محمد عدیل، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے تکری ایم مینگل، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر ابراہیم، جمہوری وطن پارٹی کے سینیٹر شاہد بگٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا امجد خان، جمعیت علماء اسلام (نورانی) کے پیر ناصر جمیل ہاشمی، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے پروفیسر ساجد میر، متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر شاہدی، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عبدالرحیم مندوخیل، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفرالحق، مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر مشاہد حسین، پیپلز پارٹی کے شاہ محمود قریشی، پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) کی سینیٹر انیسہ زیب طاہر خیلی اور پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی نے کی۔

اسی بارے میں
انتخابات، جماعتیں اور منشور
17 December, 2007 | پاکستان
موسیقی کی کلاسز، احتجاج
11 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد