BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 November, 2006, 12:33 GMT 17:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچوں کی اکثریت تعلیم سے محروم

ستائیس فیصد سکول بجلی سے محروم ہیں، پچہتر فیصد سکولوں کو عمارتیں میسر نہیں ہیں
پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکومتی کوششوں اور مالیاتی اداروں کی سکیموں کے باوجود ساٹھ لاکھ سے زائد بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ پچہتر فیصد سکولوں کو عمارتیں نہیں ہیں۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں پچاس لاکھ سے زائد بچے اسکول جا رہے ہیں لیکن اس تعداد میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔

صوبے کے وزیر اعلیٰ ارباب رحیم نے کہا ہے کہ شہری علاقوں میں تعلیم کا رجحان زیادہ ہے لیکن صوبے کے اکسٹھ فیصد تعلیمی ادارے دیہات میں ہیں، جن میں سے انتیس فیصد میں سٹاف ہی موجود نہیں ہے۔

اس وقت صوبے کے شہروں میں داخلے کی شرح اکسٹھ فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں انتالیس فیصد ہے۔

ناخواندگی کی وجوہات
وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے تعلیم کے شعبے میں ترقی نہ ہونے کی وجہ انتظامی، معاشرتی ، سیاسی اور مالی وسائل کی کمی ہے۔ حکومت نے تعلیم کے شعبے کے لئے اکتالیس بلین رپے مختص کیے ہیں جس کے درست استعمال سے صوبے کے پانچ بلین سے زائد طلباء کا مستقبل بہتر ہوسکتا ہے۔

ترقی نہ ہونے کی وجہ انتظامی، معاشرتی ، سیاسی اور مالی وسائل کی کمی ہے۔
تعلیم کی صوبائی وزیر حمیدہ کھوڑو کا کہنا ہے کہ گزشتہ پچاس سالوں سے تعلیم کے شعبے میں اتنی فنڈنگ نہیں ہوتی تھی، اس عرصے میں آبادی بڑھتی رہی مگر تعلیم کے لئے مطلوبہ رقومات نہیں رکھی گئیں ہیں۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ اس دور حکومت میں فنڈنگ مل رہی ہے جس سے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ اس کمی کو دور کیا جا سکے۔

سندھ ایجوکیشن الائنس بچوں کی بڑی تعداد میں سکول نہ جانے کی وجہ معاشی بدحالی کو سمجھتا ہے، اتحاد کے رہنما پروفیسر لیاقت عزیز کا کہنا ہے کہ سندھ میں غربت بہت زیادہ ہے اور اس کےساتھ ساتھ بیروزگاری بھی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں سندھ کی زرعی معشیت پانی کی کمی کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے جس سے غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

سکولوں کی تالا بندی
صوبائی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ستائیس فیصد سکول بجلی سے محروم ہیں، پچہتر فیصد سکولوں کو عمارتیں میسر نہیں ہیں جبکہ تیس فیصد سکولوں کو چار دیواری ہی میسر نہیں۔

گزشتہ ایک دہائی سے بند سکولوں کو فعال بنانے اور وہاں استاد مقرر کرنے کی باتیں ہوتی رہی ہیں مگر ابھی تک ان اسکولوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں کوئی چھ ہزار اسکول بند ہیں۔ صوبائی وزیر اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان اسکولوں میں کہیں استاد نہیں ہے، کچھ مقامات سے نقل مکانی ہوچکی ہے جبکہ کچھ مقامات پر غلط منصوبہ بندی کے تحت اسکول بنے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اب حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

صوبائی حکومت اساتذہ کی سرگرمیوں کو بھی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے

استاد رہنما لیاقت عزیز کا کہنا ہے کہ صوبے میں سات ہزار سے زائد سکول بند ہیں۔ ان کے مطابق یہ سکول سیاسی بنیادوں پر بنائےگئے تھے جواب وڈیروں کی بیٹھکوں میں بدل چکے ہیں جن میں کھاد اور بیج رکھے ہوئے ہیں۔

لیاقت عزیز کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت میں بھی وڈیرے اور جاگیردار شامل ہیں اس لئے وہ اس سلسلہ میں کچھ نہیں کریں گے کیونکہ ’وہ اپنے بھائیوں سے سکول کیسے خالی کروائیں گے۔‘

غیر ملکی فنڈنگ اور کرپشن
سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لئے عالمی بینک اور ایشیائی بینک سمیت دوسرے بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے کئی اسکیمیں متعارف کروائی ہیں جن میں سکول کمیٹیوں کے ذریعے سکول کی تزئین و آرائش سمیت ان کی مرمت کی سکیمیں شامل تھیں۔

استاد رہنما لیاقت عزیز کا دعویٰ ہے کہ مالیاتی اداروں نے سندھ میں پرائمری تعلیم کی بہتری کے لئے چالیس ارب روپے فراہم کیے تھے جو تمام کے تمام خردبرد کا شکار ہوگئے ہیں۔’اس کرپشن میں اوپر سے لیکر نیچے تک سب ملوث ہیں۔‘

حمیدہ کھوڑو ان الزامات کو رد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ایشیائی بینک کی صرف ڈی سینٹرلائزیشن ایلیمینٹری ایجوکیشن سکیم چل رہی ہے۔ ان کے بقول سکیم گزشتہ سال تک غیر فعال تھی، مگر ان کے قلمدان سبنھالنے کے بعد یہ سکیم موثر طریقے سے چل رہی ہیں۔

سندھ میں تعلیم کی بہتری کے لئے اب فوج سے مدد لی جارہی ہے۔ حمیدہ کھوڑو کا کہنا ہے کہ جن سکولوں میں سہولیات کی کمی ہے، سکولوں کو دیواریں، چھتیں نہیں ہیں یا پانی اور بجلی نہیں، وہاں تعمیری سرگرمیاں ہوں گی۔

صوبائی حکومت کا خیال ہے کہ محکمہ تعلیم میں حساب اور انگریزی کے مضامین کے ماہروں کی کمی ہے، جن کے لئے باہر سے ٹرینر منگوائے جائیں گے۔

حمیدہ کھوڑو کے مطابق حساب کا مضمون کافی کمزور ہوگیا ہے، اس کے اچھے استاد نہیں مل رہے ہیں۔ اسی طرح انگریزی کا مضمون بھی ہے جس کے لئے صوبائی حکومت نے باہر سے ماہرین منگوانے کی منظوری دے دی ہے۔

استاد رہنما کا کہنا ہے کہ صوبے میں سات ہزار سے زائد سکول بند ہیں۔

اساتذہ اور یونین سازی پر پابندی
صوبائی حکومت اساتذہ کی سرگرمیوں کو بھی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی رہی جس کے نتیجے میں تین ماہ قبل استاد تنطیموں پر پابندی عائد کردی گئی۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم تعلیم کی بہتری کی ذمہ داری اساتذہ کے کاندھوں پر ڈالتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے تین لاکھ اساتذہ چاہیں تو تعلیمی معیار بہتر ہوسکتا ہے۔

حمیدہ کھوڑو کے مطابق تعلیم کے فروغ میں استاد کا بنیادی کردار ہے۔ ’ اس وقت ہم کہہ سکتے ہیں کہ اساتذہ کی یونین پر پابندی کے بعد استاد اسکول جا رہے ہیں اور کلاس لے رہے ہیں۔ اس سے سکولوں میں داخلہ کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

پرائمری سے کالج سطح کے اساتذہ کی تظیموں کا اتحاد حمیدہ کھوڑو کے اس موقف سے متفق نہیں ہے۔ اتحاد کے رہنما لیاقت عزیز کے مطابق وہ استاد جو ماضی میں اراکین اسمبلی کے کوٹے پر بھرتی ہوئے ہیں، انہیں وڈیروں اور جاگیرداروں کی پشت پناہی حاصل ہے، جس کی وجہ سے نہ وہ اسکول جاتے ہیں نہ ڈیوٹی کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے اتحاد کے ضابطہ اخلاق میں یہ شرط ہے کہ جو استاد ڈیوٹی نہیں کرے گا اس کی حمایت نہیں بلکہ نشاندہی کی جائے گی ۔

بلوچستان: کالجوں کی حالت زار بلوچستان میں تعلیم
اساتذہ ہیں تو عمارت نہیں، عمارت ہے تو۔۔
یہ سات لاکھ بچےیہ سات لاکھ بچے
صوبہ سرحد میں تعلیم سے محروم سات لاکھ بچے
مدرسہ ڈائری
صرف اسلامی تعلیم پر زور کیوں؟
اچھی انتظامیہ
سندھ حکومت: بیالیس وزیر، مشیر اور معاون
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد