’سندھ:مشیر ومعاون فارغ کیے جائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت کو رضاکارانہ طور پر اپنے معاون اور مشیروں کو فارغ کردینا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ اس معاملے کو ایوان میں لائیں گے۔ لاہور ہائی کورٹ نے بدھ کو پنجاب حکومت کے مشیروں اور معاون کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدے چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔سندھ کی مخلوط کابینہ بیالیس وزرا، مشیروں اور معاون پر مشتمل ہے، جن میں شامل اٹھارہ مشیروں میں سے آٹھ کے پاس کوئی محکمہ نہیں ہے۔ سندھ میں قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قابلِ عمل ہے کہ صدر مشرف تین سال اقتدار میں رہنے کا حق رکھتے ہیں تو یہ فیصلہ کیوں قابلِ عمل نہیں کہ پنجاب حکومت کو فوری مشیروں اور معاون کو فارغ کرنا چاہیے۔ نثار کھوڑو نے کا کہنا تھا کہ سندھ میں بہت اہم وزراتیں مشیروں کو ملی ہوئی ہیں، جن میں وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق اٹھارہ کے قریب مشیروں اور معاون میں سے کئی نان گریجویٹ ہیں، یہ عوام کے نمائندوں کی بےعزتی ہے کہ گریجویٹ اور منتخب نمائندوں کی موجودگی میں نان گریجویٹ ایڈوائیزر رکھے گئے ہیں۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ کورٹ کے اس فیصلے پر عمل ہونا چاہیے اور سندھ حکومت کو اس فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے مشیروں اور معاون کو ہٹادینا چاہیے، اگر انہوں نے نہیں ہٹایا تو ہم اس اشو کو اٹھائیں گے۔ جب ان سے کہا گیا کہ پی پی پی کے دور حکومت میں بڑی تعداد میں مشیر اور معاون مقرر کیے گئے تھے تو نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ اس وقت عدالت کا فیصلہ نہیں آیا تھا اب اگر پی پی پی برسر اقتدار آئی تو اس پر عمل کیا جائیگا۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا کیا سندھ میں اطلاق ہوسکتا ہے؟ اس بارے میں ماہر قانون مجیب پیرزادہ کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت نہیں ہے، اس کی آزادانہ حیثیت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سندھ میں قابل عمل نہیں ہے تاہم یہاں کی ہائی کورٹ اس فیصلے کو رہنمائی کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔ مجیب پیرزادہ کے مطابق جب تک یہاں کوئی شہری پٹیشن دائر نہیں کرتا اور ہائی کورٹ فیصلہ نہیں دیتی اس فیصلے کا اطلاق یہاں نہیں ہوسکے گا۔
واضح رہے کہ سندھ میں سن دو ہزار دو میں صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد حکمران جماعت نے اتحادیوں کو ایڈ جسٹ کرنے کے لیے یہ مشیر اور معاون مقرر کیے تھے۔ مشیر تنخواہ اور الاؤنس کی مد میں ماہانہ اکتالیس ہزار جبکہ معاون بتیس ہزار روپے لیتے ہیں جبکہ ایک سے دو لاکھ روپے ان کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں سندھ: 42 وزیر، مشیر اور معاون11 May, 2006 | پاکستان سندھ: حکومت اور اپوزیشن کا احتجاج27 February, 2006 | پاکستان ’جماعتیں اپنے کام سے کام رکھیں‘21 April, 2006 | پاکستان سی پی ایل سی کے مستقبل پر اٹھتے سوالات17 April, 2006 | پاکستان سندھ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ13 April, 2006 | پاکستان سندھ میں ایم ایم اے، پی پی پی اتحاد21 February, 2006 | پاکستان سندھ حکومت میں اختلافات 16 January, 2006 | پاکستان سندھ کی کابینہ میں تبدیلیاں22 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||