BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 June, 2008, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دفاعی بجٹ کی تفصیلات بھی آ گئیں

سید نوید قمر
وزیر خزانہ نے ایک روز پہلے اقتصادی سروے پیش کیا تھا
وزیر خزانہ نوید قمر نے وزارت دفاع کے بجٹ کی تفصیل چھیالیس برس میں پہلی بار منگل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے پیش کر دیں جس پر پارلیمنٹ میں ارکان نے سیاسی تقسیم سے بالا تر ہو کر حکومت کو اس ’تاریخی‘ موقع پر مبارکباد پیش کی۔

دو صفحات پر مشتمل پاکستان کی مسلح افواج کے اخراجات پر مشتمل اس مختصر تفصیل کے مطابق دفاع کے لیے مختص کردہ دو سو چورانوے ارب روپے کا بڑا حصہ آرمی کے لیے رکھا گیا ہے جس کی کل مالیت ایک سو اٹھائیس ارب روپے ہے۔ فضائیہ اور بحریہ کے لیے بالترتیب اکہتر اور انتیس ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ مسلح افواج کی اسٹیبلشمنٹ یا انتظامی اخراجات کا تخمینہ چھیاسٹھ ارب روپے لگایا گیا ہے۔

آرمی بجٹ کا بڑا حصہ اپنے ملازمین پر صرف کرے گی جس کے لیے اکہتر ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح فضائیہ اور بحریہ بھی اپنے بجٹ کا بڑا حصہ ملازمین پر خرچ کریں گے جبکہ فضائیہ کے آپریشنل اخراجات سولہ ارب اور بحریہ کے چار ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

چار دہائیوں میں یہ پہلی بار ہے کہ حکومت نے دفاعی بجٹ کی تفصیل پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی ہے جسکے بعد اب نہ صرف دونوں ایوانوں میں بلکہ پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں بھی اس بجٹ پر بحث کی جا سکے گی اور دیگر وزارتوں کی طرح اگر کوئی رکن اس بجٹ میں مختص کسی بھی رقم کے بارے میں کوئی بھی اعتراض اٹھاتا ہے تو مسلح افواج کے نمائندوں سے اسکی جواب طلبی کی جا سکے گی۔

سینیٹ میں وزیر خزانہ کی جانب سے دفاعی بجٹ کی یہ تفصیل قائد ایوان رضا ربانی نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت میں دفاعی بجٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ق کے سینیٹر مشاہد حسین نے دفاعی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر حکومت کو مبارکبار دی۔ انہوں نے کہا کہ اب عوامی نمائندے نہ صرف دفاعی بجٹ پر بحث کر سکیں گے بلکہ اس تاثر کو بھی تقویت ملے گی کہ ملک کا کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

عوام کیا چاہتے ہیں؟
بجٹ سے اسلام آباد کے شہریوں کی توقعات
بجٹبجٹ کیسے بنےگا؟
بجٹ سر پر ہے مگر وزیرِ خزانہ کوئی نہیں
طلبہتعلیم کیلیے مزید رقم
سیاسی جماعتوں کا بجٹ4 % تک بڑھانے کا وعدہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد