’عدلیہ کی آزادی تک ڈٹے رہیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وکلاء کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جس طرح وکلاء ثابت قدم ہیں جج بھی اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک ملک میں آزاد عدلیہ اور آئین کی بالادستی قائم نہیں ہوجاتی۔ بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس نے کہا کہ بارہ مئی اور نو اپریل کو جس طرح وکلاء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے انہیں کبھی بھلایا نہیں جایا سکتا۔ معزول چیف جسٹس نے بار کی قیادت کو تجویز کیا کہ وہ عدلیہ کی آزادی کے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی یاد میں یادگار تعمیر کریں تاکہ لوگ انہیں یاد رکھے سکیں۔ معزول چیف جسٹس ووٹر لسٹوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت آزاد عدلیہ نہ ہوتی توموجودہ پارلمینٹ آج کام نہ کر رہی ہوتی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے کیونکہ لوگوں کا آزاد عدلیہ پر اعتبار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جب تک ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ نہیں ہوگی ملک صحیح معنی میں ترقی نہیں کرسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء جس طرح ثابت قدم ہیں اس پر قائم رہیں جج بھی ان کے شان بشانہ کھڑے رہیں گے اور ڈٹے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا جب تک اس ملک میں آزاد عدلیہ ہوگی قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کہ ججز واپس آجائیں گے کیونکہ دوبارہ حلف لینے معزولی کے اقدام کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت کوئی بھی جج دوبارہ حلف نہیں لے گا۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کی مضبوطی کے قائل ہیں مگر پارلیمنٹ اس وقت تک مضبوط نہیں ہوگی جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس ڈوگر پارلیمنٹ پر شب خون لگنے سے روک نہیں سکتے، آزاد عدلیہ ہی اس کی حفاظت کرسکتی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ لینے فیصلہ ججوں کا شعوری فیصلہ تھا، یہ تاثر بہت غلط ہے کہ ججز نوکریوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ججز خود نوکریاں چھوڑ کر آئے تھے انہیں بحالی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ شب چیف جسٹس نے جسٹس صبیح الدین احمد کے گھر پر دیگر معزول ججوں سے ملاقات کی تھی، جو کئی گھنٹے جاری رہی۔ آج ان کے خطاب کے موقع پر ہائی کورٹ کے چھ معزول جج موجود نہیں تھے۔ واضح رہے کہ یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے معزول ججوں کو اسی سینٹارٹی اور مرعات کے ساتھ بحال کرنے کی پیشکش کی ہے جسے کچھ ججوں نے قبول کرلیا تھا۔ | اسی بارے میں معزول جسٹس کا پروگرام تبدیل29 July, 2008 | پاکستان ملک گیر ہڑتال کا اعلان29 July, 2008 | پاکستان جسٹس خطاب، لائیو کوریج پر پابندی30 July, 2008 | پاکستان دو ٹوک بات کا وقت آگیا: شریف29 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||