معزول جسٹس کا پروگرام تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے بعد قائد اعظم انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے شروع ہونے والے ان کا قافلہ شاہراہِ فیصل سے ہوتا ہوا ایک مقامی فایئو اسٹار ہوٹل پر پہنچ کر پرامن طریقے سے ختم ہو گیا۔ معزول چیف جسٹس نے استقبالیہ جلوس میں دل کی تکلیف کے بعد فوت ہوجانے والے سینئر وکیل امداد اعوان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر امداد اعوان کے انتقال کی وجہ سے معزول چیف جسٹس نے پروگرام میں تبدیلی کی گئی ہے۔ شام کو انہیں عوامی مزاحمت تحریک کے ایک وفد سے ملاقات کرنی تھی جسے منسوخ کیا گیا جبکہ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منگل کی شب انہیں عشائیہ دیا گیا تھا جسے دعائیہ تقریب میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس تقریب کو جسٹس افتخار محمد چودھری خطاب نہیں کریں گے۔ وہ سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے گھر گئے جہاں انہوں نے ان سے ملاقات کی۔
اس سے قبل دو روزہ دورے پر کراچی پہنچنے پر معزول چیف جسٹس کا معزول ججوں، وکلاء، سیاسی جماعتوں اور سول سو سائٹی کے کارکنوں نے استقبال کیا۔ وہ جیسے ہی لاونج سے باہر نکلے تو نعرے لگار کر اور پھول نچھاور کرکے ان کا استقبال کیا گیا۔ و کلاء رہنماؤں کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، پاسبان، سنی تحریک، پاکستان مسلم لیگ نواز اور سول سوسائٹی کے کارکن بھی موجود تھے۔ ہر سیاسی جماعت اپنے ساتھ چھوٹے ٹرک لائی تھیں، جہاں ایک دوسرے سے سبقت کے لیے سیاسی نغمے چلائے جا رہے تھے اور نعرے بازی کی جارہی تھی۔ معزول چیف جسٹس کے راستے کو پولیس نے بیرئیر لگا کر الگ کردیا تھا۔ وکلاء رہنماؤں کے اعتراض کے باوجود پولیس نے سکیورٹی کی وجہ بتاکر انہیں ہٹانے سے انکار کردیا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری جب ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو اس دوران ان کے ساتھ گاڑی میں موجود سینیئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر امداد اعوان کو دل کی تکلیف ہوئی جو کہ جان لیوا ثابت ہوئی۔ چیف جسٹس کی گذرگاہ شاہراہ فیصل پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے۔ پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی کیمپ پر جب معزول چیف جسٹس کا قافلہ پہچنا تو کارکنوں نے گاڑی روک کر اصرار کیا وہ خطاب کریں۔ ان کی طرف سے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے خطاب کیا۔ چودھری اعتزاز کے خطاب اور سیاسی جماعتوں کو جھنڈے ہٹانے کی ہدایت کے بعد پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور جماعت اسلامی کے کارکنوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور سخت نعرہ بازی کی گئی۔ معزول چیف جسٹس کوئی ساڑہ چار گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد وہ ہوٹل پہنچے جہاں سے وہ امداد اعوان کے گھر روانہ ہوگئے اور ان کی جنازہ نماز میں شرکت کی۔ امداد اعوان سکھر شہر کے سینئر وکیل تھے اور ان کا شمار سندھ میں وکلاء تحریک کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا اور وہ 1993ء سے 1997 ء تک سینٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کل بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ بار کے ہال کی تختی کی نقاب کشائی کریں گے، اس ہال کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ جسٹس چودھری جب گزشتہ سال بارہ مئی کو کراچی ایئرپورٹ پر اترے تھے تو پر تشدد واقعات میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس روز جب کالونی گیٹ پر پہنچے تھے تو عوامی نیشنل پارٹی کے جلوس پر حملہ ہوچکا تھا اور پل کے نیچے لاشیں اور زخمی پڑے ہوئے، آج اس پل کے اوپر پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ نیچے سے دونوں اطراف سے ٹرئفک رواں دواں تھا۔ گزشتہ اور موجودہ منظر نامے میں صرف اتنی تبدیلی ہوئی ہے کہ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام استقبالیہ جلوس میں شریک تھیں آج وہ حکومت میں شامل ہیں، ان کے علاوہ دیگر جماعتیں وہ ہی ہیں جو پہلے بھی موجود رہیں۔ ایئرپورٹ پر جب میں نے کچھ وکلا اور سول سوسائیٹی کے کارکنوں سے لوگوں کی کم شرکت کے بارے میں سوال کیا تو ان میں سے کئی نے اس کی وجہ بارہ مئی واقعہ کا خوف قرار دیا، جبکہ ان کی یہ بھی رائے تھی کہ لوگوں کو تنظیمیں متحرک کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر منیر ملک کا کہنا ہے کہ وکلا جلوس کو چھوٹے پیمانے پر رکھنا چاہتے تھے کیونکہ وہ کوئی تصادم نہیں چاہتے جس میں کوئی تشدد ہو۔ | اسی بارے میں جسٹس افتخار منگل سے دورہ کراچی پر 26 July, 2008 | پاکستان ’پارلیمان محترم مگر بالادست آئین‘26 July, 2008 | پاکستان پیٹرول قیمتوں کے خلاف درخواست21 July, 2008 | پاکستان قیادت سے اختلاف، پریڈ گراؤنڈ پر دھرنا14 June, 2008 | پاکستان وکلاء لانگ مارچ، آغاز اب سکھر سے06 June, 2008 | پاکستان معزول جج تنخواہوں کے منتظر 27 May, 2008 | پاکستان جسٹس چوہدری کا سفر ٹھنڈا رہا25 May, 2008 | پاکستان ’ججز بحالی کے لیے لانگ مارچ ہوگا‘16 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||