جسٹس افتخار منگل سے دورہ کراچی پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری دو روزہ دورے پر منگل کو کراچی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ ہائی کورٹ میں وکلاء سے خطاب کریں گے۔ کراچی بار کے صدر محمود الحسن کا کہنا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کو اگست کے پہلے ہفتے کراچی آنا تھا مگر وہ بیرون ملک جا رہے ہیں اس لیے یہ پروگرام جلد منعقد کیا جا رہا ہے۔ محمود الحسن کا کہنا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو ایئرپورٹ سے سیدھا ہائی کورٹ لایا جائے گا، گزشتہ سال بارہ مئی کی طرح ان کےاستقبال کے لیے جلوس نہیں جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ وکلاء کا فیصلہ ہے حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی کا کہنا ہے کہ تیس جولائی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بار روم کی تختی کی نقاب کشائی کریں گے، اس روم کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چیف جسٹس کے پروگرام سے حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہائی کورٹ بار سے خطاب کرنے کراچی پہنچے تھے، جہاں ائیرپورٹ پر سارا دن’محصور‘ رہنے کے بعد انہیں واپس اسلام آباد بھیج دیا گیا تھا۔ اس دوران شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس میں چونتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد ایسے وقت ہو رہی ہے جب یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے معزول جج صاحبان کو دوبارہ تقرری کی پیشکش کی ہے، جس پر کچھ جج صاحبان نے رضامندی کا بھی اظہار کر لیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی سنا ہے کہ ججوں کو تقرری کی پیشکش ہوئی ہے تاہم ان سے کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے۔ کراچی بار کے صدر محمود الحسن کا کہنا ہے کہ معزول چیف جسٹس کی آمد حکومت کی کوششوں کے مدمقابل اقدام نہیں ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد پہلے سے طے شدہ پروگرام ہے۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کی معزولی کے وقت وکلاء تحریک میں کراچی کے وکلاء نے بھی اہم اور سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ مگر وکلا مارچ میں توقعات کے برعکس وکلاء کی عدم شرکت کے بعد کراچی میں اس تحریک کے جوش و خروش میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ہر ہفتے جمعرات کو عدالتی بائیکاٹ کے موقعے پر ہائی کورٹ میں کوئی سرگرمی نہیں دیکھی گئی صرف کراچی اور ملیر کی ماتحت عدالتوں میں جزوی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ کچھ وکلا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ میں چھٹیوں کی وجہ سے اعلیٰ عدالت کے وکلاء غیر حاضر ہیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آمد کے موقعے پر احتجاج میں بھی وکلاء کی تعداد نہایت کم تھی۔ وکلاء رہنماؤں کو توقع ہے کہ معزول چیف جسٹس کی آمد کے بعد وکلاء تحریک میں ایک نئی روح پھوک جائے گی۔ | اسی بارے میں ’معزولی پر فیصلے تک خطاب بند‘ 03 April, 2008 | پاکستان ’پارلیمان محترم مگر بالادست آئین‘26 July, 2008 | پاکستان بہاولپور میں وکلاء کنونشن 25 July, 2008 | پاکستان آزاد عدلیہ، جمہوریت مستحکم: افتخار چودھری31 May, 2008 | پاکستان ’ججوں کے بحالی معاہدہ کےمطابق‘22 April, 2008 | پاکستان بچوں کو سکول نہیں بھیجنا: افتخار چودھری04 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||