بچوں کو سکول نہیں بھیجنا: افتخار چودھری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ججز کالونی میں اپنے گھر میں نظر بندمعزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے دو بچوں کو پولیس کی حفاظت میں سکول بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔ معزول چیف جسٹس نے اسلام آباد کی انتظامیہ پر واضح کردیا ہے کہ جب تک ان کے ڈرائیور اور گن مین کو واپس نہیں کیا جاتا اس وقت تک وہ اپنے بچوں کو کسی اور کے ساتھ نہیں بھیجیں گے۔ ججز کالونی میں رہائش پذیر ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے معزول چیف جسٹس کے اہل خانہ کو نقل وحرکت کی اجازت دینے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اور ان کے اہلخانہ اسی طرح اپنے گھر میں نظر بند ہیں جس طرح تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کے وقت انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس سردار رضا خان نے جنہیں حکومت نے ججز کالونی میں ان کے گھر میں نظر بند کیا ہوا ہے ، بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اس حوالے سے معزول چیف جسٹس سے بات ہوئی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف ان کے اہلخانہ کو نقل حرکت کی اجازت محض ایک ڈرامہ ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت معزول چیف جسٹس کے اہل خانہ کو آزادی کے ساتھ گھومنے پھرنے کے اجازت دینے کی دعویدار ہے جبکہ دوسری طرف ان کی سالی اور ان کے سسر کو چار گھنٹے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بلوچستان ہاؤس کے قریب روکے رکھا اور وہ بغیر ملاقات کیے واپس چلے گئے۔ جسٹس سردار رضا نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے جس میں حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پی سی اور کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو ان کی ریٹائرمنٹ تک تنخواہیں اور دیگر تمام مراعات دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب سے انہیں اور دیگر ججوں کو نظر بند کیا گیا ہے اس دوران کوئی بھی سرکاری اہلکاران کے پاس نہیں آیا جس نے انہیں اس حوالے سے بتایا ہو۔ سپریم کورٹ کے معزول جج نےکہا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا ان کو ابھی تک تین نومبرسنہ دو ہزار سات کے بعد نہ ہی کوئی تنخواہ ملی ہے اور نہ ہی انہیں ریٹائرمنٹ کے بینفٹس ملے ہیں۔ اسلام اباد کے قائم مقام ڈپٹی کمشنر رانا اکبر حیات کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے پیر کے روز ہی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو حکومت کے اس اقدام سے آگاہ کردیا ہے کہ ان کے اہل خانہ آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں۔ بی بی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس کے بچے اگر سکول جانا چاہیں تو ضلعی انتظامیہ اس ضمن میں انہیں سیکورٹی سمیت ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ضلعی انتظامیہ نے منگل کے روز پولیس یا انتظامیہ کے کسی افسر کو بھیجا ہے تو انہوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ حکومت نے تین نومبر کے بعد سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے گھر میں نظر بند کرنے کے بعد ان کی گاڑیاں ، ڈرائیور فرحت اور گن مین عباس کو واپس بلا لیا تھا۔ ادھر اسلام آباد پولیس نے پیر کے روز معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی رہائش گاہ کے باہر ہنگامہ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کرنے کے الزام میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او خورشید خان کے مطابق یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ایک سو اڑتالیس، ایک سو انچاس ،ایک سو اٹھاسی تین سو چون اور چار سو ستائیس کے تحت درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے میں اٹارنی جنرل ملک قیوم کے ڈرائیور کے اس بیان کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں ڈرائیور کا کہنا ہے کہ وقوعہ کے روز مظاہرین نے ان کی گاڑی پر حملہ کیا جس سے گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وکلاء کی طرف سے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے بارے میں جو درخواست دی گئی تھی اس پر کیا پیش رفت ہوئی ہے تو انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ واضح رہے کہ پیر کے روم وکلاء نے تھانہ سیکرٹریٹ میں ایک درخواست دی تھی جس میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو گھروں میں نظر بند کرنے پر صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ سمیت اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کے اعلٰی افسران کو اس میں فریق بنایا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان میں وکلاء کا یومِ افتخار 30 January, 2008 | پاکستان ’قیدِ تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے‘09 November, 2007 | پاکستان ’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘08 November, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ٹیلیفونک خطاب سنیں06 November, 2007 | پاکستان آئین تار تار ہے، قربانیوں کا وقت ہے، لوگ اٹھ کھڑے ہوں: جسٹس افتخار 06 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||