BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 November, 2007, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قیدِ تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے‘

جسٹس افتخار(فائل فوٹو)
چیف جسٹس نے دعویٰ کیا کہ ملک کی سولہ کروڑ عوام ان کے ساتھ ہے اور وہ آئین کی بحالی چاہتے ہیں۔
برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ انہیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ حکومت انہیں زبردستی کوئٹہ بھیج رہی ہے اور انہیں قید تنہائی میں رکھنا چاہتی ہے۔

انہوں نے جمعہ کو بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق حکومت انہیں بچوں سے علیحدہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دو چھوٹے بچے بیمار ہیں اور وہ سکول جاتے ہیں۔ افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ شاید حکومت کے علم میں نہیں ہے کہ کوئٹہ نہ صرف میرا آبائی شہر ہے بلکہ یہ میرے خون میں شامل ہے۔


حلف کی پاسداری
 انتظامیہ کو حکومتی احکامات کی بجائے صرف انہی احکامات پر عمل کرنا چاہیے جو قانون کے مطابق ہوں۔
برطرف چیف جسٹس
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ انہیں کوئٹہ شفٹ کرنے کے بعد حکومت کے لیے کوئی پرشانی نہیں ہوگی تو یہ حکومت کی خام خیالی ہے۔ برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس نے دعویٰ کیا کہ ملک کے سولہ کروڑ عوام ان کے ساتھ ہے اور وہ آئین کی بحالی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت انہیں چاہے جہاں بھی لے جائے ان کی موجودگی ہی حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ’میں وہ چیف جسٹس ہوں جس نے ملک کے سولہ کروڑ عوام کو انصاف فراہم کیا اور حکومت مجھ سے خائف ہے‘۔

انہوں نے کہا صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی تقریر میں بھی اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ایک سو سے زائد سوموٹو کیسوں کے علاوہ ہزاروں درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا عدالت پر اعتماد پیدا ہوگیا ہے اور لوگ انصاف کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے بطور چیف جسٹس جو بھی کچھ کیا وہ عوام کے لیے کیا اس لیے وہ (جنرل مشرف) مجھے ہٹانا چاہتے ہیں۔

لوگ عدالت جائیں
 جن لوگوں کے مقدمے عدالتوں میں ہیں انہیں عدالتوں میں خود پیش ہونا چاہیے اور عدالت کو بتانا چاہیے کہ جب تک اُن کے وکیل نہیں آئیں گے ان کے مقدمات پر کارروائی نہ کی جائے تاکہ ان کے مقدمات ختم نہ ہوسکیں۔
جسٹس افتخار
ایک سوال پر کہ تمام اختیارات حکومت کے پاس ہوں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس جیسے حالات ہوں تو ان حالات میں قانون کے پاس ایسی کون سی بات رہ جاتی ہے کہ وہ اپنی بات منوائے۔ برطرف چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کو اپنی بات منوانے کے لیے نہ کوئی ڈنڈہ چاہیے اور نہ ہی کسی فورس کی ضرورت ہوتی ہے۔ قانون کی اپنی طاقت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ وقتی طور پر اس سےاتفاق نہ کریں لیکن کچھ عرصے کے بعد ان کو یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ قانون کی بات ہی صحیع ہے۔

ایک اور سوال پر کہ جو وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہورہے ان کے مقدمات ختم کیے جا رہے ہیں اور گرفتار ہونے والے وکلاء کو دوسری جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ یہ مقدمات بحال ہوجائیں گے اور ماتحت عدالتوں کو ان حالات میں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالتوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ وکلاء ملک کے آئین اور ملک کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے مقدمے عدالتوں میں ہیں انہیں عدالتوں میں خود پیش ہونا چاہیے اور عدالت کو بتانا چاہیے کہ جب تک اُن کے وکیل نہیں آئیں گے ان کے مقدمات پر کارروائی نہ کی جائے تاکہ ان کے مقدمات ختم نہ ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورت حال عارضی ہے اور یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی اور جنرل صاحب کو بہت جلد اس کے بارے میں معلوم
ہوجائےگا۔

افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عوام حکومت کی مقبولیت کے سلسلے میں سٹاک ایکسچینج کی حثییت رکھتے ہیں اور یہ سٹاک ایکسچینج روزانہ کریش ہو رہی ہے اور حکومت کو ابھی تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی ہے کہ ان کی اتھارٹی کو کسی نے مانا ہی نہیں ہے اور نہ کوئی ماننے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی۔

برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس نے کہا کہ ان حالات میں انتظامیہ کو حکومتی احکامات کی بجائے صرف انہی احکامات پر عمل کرنا چاہیے جو قانون کے مطابق ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کو اپنے حلف کی پاسداری کرنی چاہیے جو وہ فوج میں کمیشن لینے سے پہلے اُٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے ہر بچے، بوڑھے، مرد اور عورت کو قانون کی حکمرانی کے لیے باہر نکلنا ہوگا اور اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کی خاطر اس ملک کو قربان نہیں ہونے دینا۔

’جدوجہد کرتے رہیں‘
جسٹس چودھری کے بقول ایمرجنسی غیر آئینی
وکلاء کا احتجاجیہاں بھی ایمرجنسی
اسلام آباد ججز کالونی کے نہ گفتہ بہ حالات
جسٹس خلیل رمدےاپنے کیے پر فخر ہے
فکر ججی کی نہیں ملک کی ہے: جسٹس رمدے
جیلپابندِ سلاسل
وکلاء سے ملاقات کی اجازت، دوائیوں کی نہیں
عاصمہ جہانگیروکلاء پر’ تشدد‘
جیلوں میں بند وکلاء نمائندوں پر تشدد کا الزام
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد