پیٹرول قیمتوں کے خلاف درخواست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے اعلان کیا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد پیڑول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سپریم کورٹ بار کی طرف سے درخواست دائر کی جائے گی۔ انہوں نے یہ اعلان سوموار کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ’ یوم آزادی عدلیہ‘ کے سلسلے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ’میں وعدہ کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ بار ملک بھر کے وکلاء کی طرف سے غریب عوام کے لیے سپریم کورٹ میں مہنگائی کے خلاف درخواست دائر کرے گی‘۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس بیس جولائی کو سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلے کے ذریعے صدر پرویز مشرف کی طرف سے جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر ریفرنس کالعدم قرار دیا تھا اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا لیکن ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے اس مرتبہ یہ دن بیس کی بجائے اکیس کو منایا گیا۔ اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ جب افتخار محمد چودھری چیف جسٹس پاکستان تھے تو تیل کی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز ہر تیسرے دن عدالت میں پیش ہوتے تھے اور ان کو عدالت کے روبرو یہ بتانا پڑتا تھا کہ تیل کی کمپنی کتنا منافع حاصل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمان اورحکومت مہنگائی کو کم نہیں کرے گی تو جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے فوری مہنگائی کے خلاف سپریم کورٹ بار درخواست دائر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وکلا تحریک اہم مرحلے میں داخل ہورہی ہے اور اس لیے عوام وکلاء کا ساتھ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ وکلاء قیادت کے مشترکہ فیصلے کے تحت لانگ مارچ کے بعد دھرنا نہیں دیا گیا لیکن اس کے باوجود اگر دھرنا نہ دینے کی ذمہ داری ان پر عائد کی جاتی ہے تو وہ یہ ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تقریب سے پاکستان بار کونسل کے رکن حامد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو وکیل جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس تسلیم کرتا ہے وہ وکیل نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کانفرنس کے انعقاد کے بارے میں پاکستان بارکونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک ماہ قبل فیصلہ کیا تھا جبکہ اس کانفرنس کے خلاف اعتراض اس دن کیا گیا جب یہ کانفرنس ہورہی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ کہ اگر کسی کو اس کانفرنس پر اعتراض کرنا تھا وہ یہ اعتراض پہلے کرسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ حامد خان نے الزام لگایا کہ وکلاء کانفرنس کے انعقاد پر اعتراض وزیر قانون فاروق نائیک کے کہنے پر کیا گیا۔ان کے بقول وکلاء تحریک ایک سیلاب ہے اور کوئی گروہ اس کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔ تقریب سے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر انور کمال نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیس جولائی کو سپریم کورٹ نے ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ تقریب سے پاکستان بارکونسل کے رکن حافظ عبدالرحمان انصاری اور لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدر منطور قادر نے بھی خطاب کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||