BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 May, 2008, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس چوہدری کا سفر ٹھنڈا رہا

جسٹس افتخار چوہدری
اس بار پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء نےشرکت نہیں کی
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سنیچر کے روز اسلام آباد سے فیصل آباد بار سے خطاب کرنے کے لیے مقررہ وقت سے کہیں دیر سے نکلے۔ میڈیا کو اس سفر کا بے چینی سے انتظار تھا کہ کب پچھلے سال اپریل جیسا سفر ایک بار دوبارہ شروع ہوتا ہے۔

چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں معزول چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر وکلاء کی آمد ہوتی رہی اور نعرے بازی میں وقتاً فوقتاً تیزی آتی گئی اور میڈیا کی توجہ ان کی طرف مرکوز ہو جاتی تھی۔

ماضی کے مقابلے میں آج سول سوسائٹی کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہی چند چہرے نظر آئے جن کی امیدیں معزول چیف جسٹس سے وابستہ ہیں یعنی کہ لا پتہ افراد کے چند خاندان اور ڈیفنس بار ہیومن رائٹس کے کنوینر خالد خواجہ۔

سول سوسائٹی کے چند افراد کے علاوہ تقریباً دو سو افراد پر مشتمل پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکن وہاں موجود تھے جو کہ معزول چیف جسٹس اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کے حق میں اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگا رہے تھےاور ان ہی کی موجودگی سے ٹھنڈے ماحول میں نسبتاً گرمی آئی۔

مسلم لیگ نون کے علاوہ اچھی بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی بھی تھی جنہوں نے اپنی گاڑیوں پر بڑے بڑے سپیکرنصب کر کے انقلابی غزلیں اور ملی نغمے لگا رکھے تھے۔

صحافیوں اور وکلاء برادری میں سے کئی کا خیال تھا کہ سنہ دو ہزار سات اپریل کےمقابلےاس بار وکلاء کی تعداد کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء نےشرکت نہیں کی ہے۔

چیف جسٹس کا قافلہ
 موٹروے پرمعزول چیف جسٹس کا قافلہ کئی جگہ رکا اور خیرمقدمی جلوس بھی تھا لیکن صرف کلر کہارپر ایسا ہجوم تھا جس کو آپ خیر مقدمی جلوس کہہ سکتے ہیں۔ باقی مقامات پر کہیں پچاس تو کہیں زیادہ سے زیادہ سو افراد موجود تھے

وہاں پر موجود کمیونسٹ کسان پارٹی کے کارکنان نے کہا کہ وہ معزول چیف جسٹس کا ساتھ اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ اس ملک کو اس سمت میں لے کر جائیں گے جو ان کی سوچ سے مناسبت رکھتی ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کے ایک مقامی لیڈر نے بھی معزول چیف جسٹس کا ساتھ کچھ انہیں وجوہات پر دینے کے بارے میں کہا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن وہاں موجود تھے جنہوں نے اپنا تعارف اعتزاز احسن کے حامی کے طور پر کرایا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کی جماعت کے دیگر افراد نظر نہیں آ رہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق ان افراد میں سے ہے جو ہیں تو پیپلز پارٹی کے کارکن لیکن سوچ اعتزاز احسن والی ہے۔

معزول چیف جسٹس گیارہ بجے کے بجائے ساڑھے تین بجے اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہوئے تو کثیر تعداد میں گاڑیوں کا ایک قافلہ بن گیا اور ان کا پہلا پڑاؤ اسلام آباد کی کشمیر ہائی وے پر گولڑہ موڑ تھا۔

یہاں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے کاکرکن ایک بڑی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ساتھ گھوڑوں کا رقص بھی تھا۔

موٹروے پر اگرچہ معزول چیف جسٹس کا قافلہ کئی جگہ رکا اور خیرمقدمی جلوس بھی تھا لیکن صرف کلر کہارپر ایسا ہجوم تھا جس کو آپ خیر مقدمی جلوس کہہ سکتے ہیں۔ باقی مقامات پر کہیں پچاس تو کہیں زیادہ سے زیادہ سو افراد موجود تھے۔ تاہم موٹر وے پر جہاں بھی رکے وہاں پر مسلم لیگ نون کے کارکن ہی نظر آئے۔

جسٹس چودھری کا قافلہ
مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے کاکرکنوں نےان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں

کلر کہار پر ایسا معلوم ہوا جیسے اس قافلے میں جان پڑ گئی ہو کیونکہ وہاں اعتزاز احسن معزول چیف جسٹس کے قافلے میں شامل ہو ئے۔ اعتزاز اور معزول چیف جسٹس ایک دوسرے سے بڑی گرمجوشی سے ملے اور آس پاس کھڑے تمام افراد کے چہروں پر خوشی کی لہر آ گئی۔

اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہونے کی وجہ سے اسلام آباد سے معزول چیف جسٹس کے ہمراہ نہ تھے۔ اگلے ہی انٹر چینج پر لوگوں سے اعتزاز احسن نے اپنے جوشیلے انداز میں خطاب کیا اور نعرے لگوائے۔

وکلاء اپنی کامیابی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے موٹروے پر ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے اور اس کوشش میں تھے کہ ان کی گاڑی معزول چیف جسٹس کی گاڑی کے عین پیچھے ہو۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سخت مشلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ بھی اس قافلے کی سست رو رفتار میں پھنس گئے تھے۔

تقریباً سات گھنٹے کے سفر کے بعد فیصل آباد میں داخل ہونے پر معزول چیف جسٹس کے استقبال کے لیے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ فیصل آباد کے ٹول پلازہ پر موجود تھے۔ آتش بازی اور نعروں کے درمیان معزول چیف جسٹس کسی چیف جسٹس کی طرح نہیں بلکہ ایک سیاسی رہنما کی طرح فیصل آباد میں داخل ہوئے۔

احتجاجایمرجنسی کے بعد
پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
معزول جسٹس خواجہ محمد شریف’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
وکلا کا احتجاجوکلا کا احتجاج
’لوگوں کے مسائل کے ذمہ دار وکیل نہیں‘
وکلاء کا مظاہرہاحتجاج جاری
ججوں کی نظربندی کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرہ
وکلاء کی ہڑتالہفتہ اظہار یکجہتی
کراچی میں وکلاء کا مکمل بائیکاٹ
کراچیکراچی میں تشدد
بدھ کو کراچی میں کئی گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد