معزول جج تنخواہوں کے منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کو تنخواہ دینے کے اعلان کے باوجود اعلیٰ عدالتوں کے معزول ججوں کو ابھی تک تنخواہ نہیں مل سکی۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس سردار رضا خان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں نہ ہی کسی حکومتی اہلکار نے اُن سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کی انتظامیہ کو کوئی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج صاحبان اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے ریسٹ ہاؤسز میں رہ رہے ہیں اس لیے انہیں نہ تو اس کا کرایہ اور نہ ہی بجلی کا بل ادا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اخراجات میں بچت ہوجاتی ہے۔ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کو معزول چیف جسٹس سمیت افتخار محمد چوہدری سمیت اُن ججوں کے گھر آلاٹ کردیے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا تھا اور انہیں اس حوالے سے گھر خالی کرنے کے نوٹسز بھی جاری کردیے تھے تاہم حکومت نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے مزید کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔ معزول جسٹس سردار رضا کا کہنا ہے کہ چھ ماہ سے زائد عرصہ سے افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے گیارہ اور چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چالیس سے زائد ججوں کو تنخواہ نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ ان میں زیادہ تر معزول ججوں کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ سردار رضا کا کہنا تھا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنی ضرورتوں میں کمی کرلی ہے اور ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے جو بچت کی تھی اُس میں سے خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ججز کالونی میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پانچ جج صاحبان رہائش پذیر ہیں جبکہ باقی آٹھ معزول جج صاحبان اپنے اپنے آبائی علاقوں کے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والےجو جج صاحبان ججز کالونی میں رہائش پذیر ہیں اُن میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس سردار رضا، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس شاکراللہ جان اور جسٹس ناصرالملک شامل ہیں۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج جسٹس جاوید اقبال کو تین نومبر کے بعد حکومت نے پریس کونسل کا چیئرمین مقرر کردیا تھا لیکن جب سے سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے اور انہوں نے تمام معزول ججوں کی رہائی کا حکم دیا تھا کے بعد معزول جسٹس جاوید اقبال اپنے دفتر نہیں گئے۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو جب اس بات کا علم ہوا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کو تنخواہ نہیں ملی تو انہوں نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ہدایت کی کہ ان ججوں کو خصوصی فنڈز سے تنخواہیں ادا کی جائیں۔ تاہم کچھ معزول ججوں کا کہنا تھا کہ یہ خصوصی فنڈز نادار اور غریب افراد کے لیے ہیں اس لیے وہ اس سے تنخواہ نہیں لیں گے۔ | اسی بارے میں آئینی پیکیج پر پی پی پی کا اجلاس24 May, 2008 | پاکستان ’معزول ججوں کو پروٹوکول دیں گے‘20 May, 2008 | پاکستان آئینی پیکج، بجٹ اجلاس سے پہلے مشکل20 May, 2008 | پاکستان ضمنی الیکشن نہ لڑنے کا اعلان18 May, 2008 | پاکستان ’عدلیہ بحالی نوکری کا معاملہ نہیں‘24 March, 2008 | پاکستان بچوں کو سکول نہیں بھیجنا: افتخار چودھری04 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||