BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 May, 2008, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’معزول ججوں کو پروٹوکول دیں گے‘

رانا ثناء اللہ
جب کوئی آئینی پیکج سامنے آئے گا تو جواب دیں گے:رانا ثناء اللہ
حکومت پنجاب نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت تمام معزول جج صاحبان کو حاضر سروس ججوں کا پروٹوکول اور سہولتیں دینے کا اعلان کیا ہے ۔

یہ بات صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے پنجاب اسمبلی کمیٹی روم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ تمام معزول ججوں کو صوبے میں وہی سہولتیں فراہم کی جائیں گی جن کا اعلٰی عدلیہ کا کوئی بھی حاضر سروس جج آئین و قانون کے مطابق استحقاق رکھتا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بھی وہی پروٹوکول دیا جائے گا تو وزیر قانون نے جواب دیا کہ ’ہم جنہیں جج تسلیم کرتے ہیں یہ پروٹوکول انہیں دیے جانے کی بات ہو رہی ہے‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ نون تین نومبر کے اقدامات اور اس کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا بھی یہی موقف ہے اور ابھی چند روز پہلے انہوں نے ججوں کی تنخواہوں کا اعلان کرکے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ بھی ان ججوں کو حاضر سروس مانتی ہے۔

مجوزہ اٹھارہویں ترمیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کے سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون ججوں کی بحالی کے لیے قرارداد لانے کے حق میں ہے تاہم جب کوئی آئینی پیکج سامنے آئے گا تو وہ اس کا جواب دیں گے۔

صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری چوبیس مئی کو پنجاب کے شہر فیصل آباد جا رہے ہیں جبکہ جون کی نو تاریخ کو وہ لاہور میں وکلاء اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار کے پنجاب میں داخل ہوتے ہی پروٹوکول کا آغاز کر دیا جائے گا اور انہیں ان کی مرضی کے مطابق سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

افتخار محمد چودھری چوبیس مئی کو فیصل آباد جا رہے ہیں

ان سے پوچھا گیا کہ کیا مسلم لیگ نون کے رہنما وکلاء کے عدلیہ بحالی اجتماعات میں شرکت کریں گے؟صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ وکلاء کنونشن بار روم کی حدود میں ہورہے ہیں۔ پچھلے برس وکلاء ان اجلاسوں میں سیاسی شخصیات کو نہیں بلاتے تھے لیکن اگر اس بار انہوں نے مدعو کیا تو مسلم لیگی رہنما ضرور شرکت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگی کارکن پچھلے برس کی طرح چیف جسٹس کے استقبال کے لیے جائیں گے اور ان کے ساتھ متعلقہ ضلعی بار تک جلوس کی شکل میں آیا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے کارکن وکلاء تحریک کا ہراول دستہ ہونگے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ کچھ قوتیں ایک پرامن تحریک کو پرتشدد حالات کی طرف لے جانے کی کوشش کررہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’یہ جمہوریت کے خلاف سازش کرنے والے عناصر ہیں لیکن ہم جمہوری طاقت سے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد