BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 June, 2008, 10:51 GMT 15:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیادت سے اختلاف، پریڈ گراؤنڈ پر دھرنا

وکلاء رہنماؤں نے ججز کی بحالی تک احتجاج جاری رکھنے کا وعدہ کیا تھا: اختلافی وکلاء
عدلیہ کی آزادی اور معزول ججوں کی بحالی کے سلسلے میں وکلاء کا لانگ مارچ سنیچر کی صبح کو ختم ہوگیا ہے تاہم اس لانگ مارچ میں شریک چند وکلاء نے وکلاء رہنماوں کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پریڈ ایونیو پر دھرنا دے دیا ہے۔

ان وکلاء کا کہنا ہے کہ جب وہ اس لانگ مارچ میں شامل ہوئے تھے تو انہیں بتایا گیا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکاء پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اُس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا جبکہ وکلاء رہنماؤں نے لانگ مارچ کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

ان وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ تب تک پارلینمٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے جب تک معزول ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا۔ فیصل آباد اور لیہ سے تعلق رکھنے والے ان وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دوسرے ساتھیوں سے بھی کہیں گے کہ وہ اس دھرنے میں اُن کا ساتھ دیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے لانگ مارچ کے شرکاء سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کے وسائل نہیں ہیں جبکہ وکلاء کے رہنما علی احمد کُرد نے کہا تھا کہ وکلاء غیر معینہ مدت تک پارلمینٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے ان وکلاء کے بیٹھنے لیے ایک علیحدہ ٹینٹ لگا دیا ہے۔ ادھر داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے لانگ مارچ کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے۔

سنیچر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرمیڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس لانگ مارچ میں بیس ہزار کے قریب لوگ تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ نمبروں میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء اور حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے متاثر کُن شو کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی شروع کی ہےاور اس کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں انہی ہی کی جماعت نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کو تنخواہیں مل چکی ہیں۔

جبکہ سپریم کورٹ وہ جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہیں تنخواہیں ملی ہیں۔

رحمان ملک نے کہا کہ بجٹ منظور ہونے کے بعد ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ موجودہ ججوں کو برقرار رکھنے اور پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں کو بحال کیا جائے اس لیے بجٹ میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد انتیس رکھنے کی تجویز کی گئی ہے۔

موجودہ حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ وقت آنے پر ججوں کی بحالی کے بارے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے درمیان معاہدے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں اُن سے کوئی بات نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد میں شامل کسی سیاسی جماعت کو احتجاجی تحریک میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی کمزور ہیں۔

اسی بارے میں
لانگ مارچ میڈیا کی نظرسے
14 June, 2008 | پاکستان
لانگ مارچ میں لال بینڈ
12 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد