کیا پھانسیاں صرف سیاستدانوں کا مقدر ہیں: نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے رہنما نواز شریف نے کہا ہے کہ کیا پھانسیاں اور ملک بدری صرف سیاستدانوں ککا مقدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو اب کوئی محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا کیونکہ ’آج کا عوامی جرگہ صدر کی اقتدار سے علیدگی نہیں، مواخذہ نہیں محاسبہ چاہتا ہے۔‘ جب اعتزاز احسن اور وکلاء کے دیگر قائدین پریڈ گراؤنڈ پہنچ چکے تو اس سے پہلے قافلے اور قائدین کا استقبال ’گو مشرف گو‘ کے نعروں سے کیا گیا۔ میاں نواز شریف کو سخت سکیورٹی میں سٹیج کے پیچھے والے راستے سے لایا گیا۔ ان کا استقبال جلسے گاہ میں موجود لوگوں نے نعرے بازی کر کے کیا۔ انہوں نے نعروں کا جواب ہاتھ ہلا کر دیا اور پھر سٹیج پر موجود اپنی جماعت کے رہنماؤں اور وکلاء رہنماؤں کے ساتھ مصافحہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے وکلاء رہنماؤں کے ساتھ اظہار حکجہتی کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے۔ قبل ازیں مسلم لیگ کے رہنما سعد رفیق پریڈ گریڈ پہنچے تھے جنہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو یہ پارلیمنٹ اپنی افادیت کھو بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کا عبرتناک انجام ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آصف زرداری کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ عوام کے ساتھ ہیں یا نہیں۔ وکلاء کا قافلہ جب آبپارہ پر پہنچا تو لاپتہ افراد کے حوالے سے ڈیفنس فار ہیومن رائیٹس کی آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ صدر مشرف نہ صرف لاپتہ افراد بلکہ لال مسجد میں ہونے والے خون خرابہ کے بھی ذمہ دار ہیں۔ جب قافلہ راولپنڈی سے نکل کر اسلام آْباد میں داخل ہوا تو اسلام آباد ہائی وے پر وکلاء کی گاڑیاں موجود تھیں اور اہم وکیل رہنما آبپارہ چوک میں ایک بہت بڑے جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔
وکلاء کے قافلے کے راستے کے دونوں اطراف لوگ کھڑے فتح کے نشان بنا رہے ہیں اور شدید نعرہ بازی ہو رہی ہے۔ لوگوں میں ایک کثیر تعداد خواتین کی ہے۔ وکلاء کا قافلہ رش کی وجہ سے کافی سست رفتاری سے سفر کر رہا ہے۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا استقبال ان کی جماعت کے رہنماؤں نے کیا جن میں راجہ ظفر الحق، تہمینہ دولتانہ، ظفر اقبال جھگڑا اور دیگر شامل تھے۔ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی مجمع سے خطاب کیا۔ نواز شریف نے اسلام آباد ائر پورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس لانگ مارچ کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی اور وہ وقت دور نہیں جب معزول عدلیہ بحال ہو جائے گی۔ مستقبل کی حکمت عملی پر انہوں نے کہا ’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘۔ ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا کہ پنڈال میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور وکلاء، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے افراد کی آمد جاری ہے۔ تقاریر کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ لیاقت بلوچ نے تقریر میں آزاد عدلیہ پر زور دیا جبکہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ پاکستان مسلم لیگ قاف کے فارورڈ بلاک کی سینیٹر نیلوفر بختیار بھی پنڈال میں موجود ہیں۔ پنڈال میں زبردست صدر مشرف کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے۔ نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ وکلاء کا مری روڈ پر آہستہ رفتار کے ساتھ اسلام آباد کی طرف گامزن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی قافلے میں شرکت کر لی ہے۔ ان کی شمولیت کا اعتزاز احسن نے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں امریکی سفیر کو یہ عوامی سمندر دیکھنا چاہیے اور اپنی حکومت سے کہنا چاہیے کہ صدر مشرف کی سرپرستی کرنا بند کی جائے۔
ہمارے نامہ نگار ہارون رشید اسلام آباد میں پریڈ گراؤنڈ پر موجود ہیں جہاں پر جلسہ ہو گا۔ معزول چیف جسٹس کے ترجمان اطہر من اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اسلام آباد میں جلسے میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔ لیاقت باغ میں معزول چیف جسٹس کے حق میں اور صدر مشرف کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی جس کے بعد یہ قافلہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گیا۔ قافلے میں سب سے آگے ایک ٹرالر پر سیاسی اور وکلاء رہنما موجود ہیں۔ لوگ اپنے موبائل فون سے تصویریں اور فلم بنا رہے ہیں۔
لانگ مارچ کے دوران مختلف شہروں میں لوگ قافلے کے استقبال کے لیے سڑک کے دونوں اطراف موجود تھے۔ اس کے علاوہ کئی جگہ پوسٹر آویزاں تھے جس پر بینظیر بھٹو کا وہ بیان درج ہے جس میں انہوں نےکہا تھا ’ہم چیف جسٹس کے گھر پر قومی پرچم لہرائیں گے‘۔ گوجر خان میں اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لانگ مارچ صرف ہزاروں میل کا سفر طے کرنا نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں کا سفر لمحوں میں طے کرنا ہے۔ انہوں نے راولپنڈی کے وکلاء اور عوام سے کہا کہ سارے ملک سے یہ قافلہ آرہا ہے اور وہ ڈی میں کھڑے ہیں اور گول انہوں نے کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لانگ مارچ ایک تاریخی لمحہ ہے اور ہم نے تاریخ بدلنی ہے اور پاکستان کی قسمت بدلنی ہے۔ انہوں نے کا کہ اگر وزیر اعظم پہلے خطاب میں ججوں کی رہائی کا ہی نہیں بلکہ بحالی کا حکم بھی جاری کر دیتے تو عدلیہ بحال ہو جاتی۔ ’ہم تو کہتے ہیں کہ آج عدلیہ بحال کرو اور تاکہ باقی مسائل پر زیادہ توجہ دے سکو۔‘ دریں اثناء پشاور سے وکلاء کی لانگ مارچ میں شرکت کرنے کے لیےصوبۂ سرحد کے وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا ایک قافلہ جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد، مسلم لیگ(ن) کے رہنماء اقبال ظفر جھگڑا اور عبداللطیف آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔ پشاور سے ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ نے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ سے روانہ ہونے والے سینکڑوں افراد پر مشتمل اس قافلے کو معزول چیف جسٹس طارق پرویز اور ہائیکورٹ کے دیگر معزول ججوں نے رخصت کیا۔ روانگی کے وقت پرجوش وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے عدلیہ کے حق اور جنرل ریٹائرڈ مشرف کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے قافلے میں شامل ہوکر اسلام آباد کی طرف نہ جانے کے حوالے سے کہا کہ وہ اب بھی خود کو آئینی جج سمجھتے ہیں اور ان کے منصب کا تقاضہ ہے کہ وہ ایک سیاسی جلوس میں شرکت نہ کریں۔تاہم ان کے بقول عدلیہ کی آزادی کے لیے انہوں نے لانگ مارچ میں شرکت کرنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی خاطر قافلے کے روانگی کے وقت اپنی موجودگی کو لازمی سمجھا۔
پشاور سے روانہ ہونے والے قافلے میں نوشہرہ کے مقام پر ملاکنڈ ڈویژن اور مردان کے، جہانگیرہ میں صوابی اور حسن ابدال پر ہزارہ ڈویژن کے وکلاء جلوسوں کی صورت میں شامل ہوں گے۔ جہلم میں قافلے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ حکومت نے ’معزول‘ ججوں کو تنخواہ دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ معزول نہیں ہیں کیونکہ معزول ملازمین کو تنخواہ نہیں دی جاتی۔ وکلاء رہنماؤں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گجرات میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے اٹھائے لوگ مارچ میں شریک ہوئے ہیں۔ قافلے میں مسلم لیگ (ن) کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن بھی شامل ہیں۔ جی ٹی روڈ پر قائم استقبالیہ کیمپوں پر زیادہ تعداد پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی نظر آئی۔ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء میاں نواز شریف نے لاہور میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو افسوس ہے کہ جمہوری حکومت آنے کے باوجود ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء اور سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہیں۔ یہ بات انہوں نے وکلاء کے قافلے سے مینار پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
’یہ جو سوغات ہمیں ملی ہے مشرف کی طرف سے اور جو جج بنے بیٹھے ہیں اور جو پاکستان کا حلف لینے کی بجائے مشرف کا حلف اٹھانے کو تیار ہیں۔‘ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کی قسمت میں ایسے جج رہ گئے ہیں جو بک جاتے ہیں اور جو مشرف کو جھک کر سلام کرتے ہیں۔ اس پر مظاہرین نے اونچی آواز میں نہیں کہا۔ اس سے قبل علی احمد کرد نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قافلہ اسلام آباد دو خوابوں کی تعبیروں کے ساتھ جا رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ صدر مشرف اقتدار میں نہیں رہے گا اور دوسرا ججوں کی دو نومبر والی پوزیشن پر بحالی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اس وقت تک گھیراؤ جاری رہے گا جب تک کہ قرارداد منظور نہیں ہوتی اور جج بحال نہیں ہوتے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے نواز شریف کو ججوں کا ساتھ دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک نے تو بھوربن معاہدے پر اعتماد کیا تھا۔ ’ہم نے تو کسی کا ہاتھ نہیں روکا کہ وہ عوام کو آٹا فراہم نہ کرے، بجلی فراہم نہ کرے۔‘ لاہور میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لانگ مارچ کے آخری مرحلے کے آغاز پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وکیلوں کا ساتھ دیں کیونکہ ان کے بقول وکیل قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وکلاء نے نو مارچ سے جو انقلاب برپا کرنا شروع کیا ہے اس کا کسی منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے ورنہ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام ان سے بھی مایوس ہوجائیں گے۔ انہوں نے وکلاء کو کہا ہے کہ ان کی منزل بہت دور نہیں، بہت قریب ہے وہ ثابت قدم رہیں اور کسی رکاوٹ سے گھبرا کر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ انہوں نے وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ ڈسپلن برقرار رکھیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا کہ وکیلوں کی تحریک صرف ججوں کی بحالی پر ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ ہم ریاست کا مزاج اور سوچ بدلیں گے اور پاکستان کو قومی سلامتی کی ریاست کی بجائے ایک فلاحی ریاست بنائیں گے۔ ہائی کورٹ کے معزول جسٹس خواجہ شریف خطاب کے لیے آئے تو فرط جذبات سے آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ جب حکمران اتحاد کے پاس دوتہائی اکثریت ہی نہیں ہے تو آئینی ترمیم کیسے کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پارلیمان سے کوئی خاص امید نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’اسوقت صدرنہیں، پارلیمان رکاوٹ ہے‘10 June, 2008 | پاکستان ’پارلیمان کےگھیراؤ کے حق میں نہیں‘11 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں سخت سکیورٹی10 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ ابتدائی مرحلہ مکمل10 June, 2008 | پاکستان وکلاء کا قافلہ بہاولپور پہنچ گیا10 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||