BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 June, 2008, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لانگ مارچ میڈیا کی نظرسے

اخبارات
تمام اخبارات میں لانگ مارچ کی خبرویں چھائی رہیں
لاہور سے شائع ہونے والے تقریباً تمام اخبارات نے لانگ مارچ کی خبروں کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔اردو کے بیشتر اخبارات کے اول صفحات لانگ مارچ کی خبروں تصاویر، تجزیوں اور بیانات سے بھرے ہوئے ہیں ۔

روزنامہ جنگ اور نوائے وقت نے خصوصی رنگین ایڈیشن بھی شائع کیے ہیں۔ان دونوں اخبارات نے اپنی شہ سرخی میں اسے لاکھوں کا اجتماع قرار دیا ہے۔

روزنامہ ایکسپریس نے بینر لیڈ(آٹھ کالم ) لگائی ہے۔’لانگ مارچ فیصلہ کن موڑ پر،اسلام آباد راولپنڈی کی سڑکیں خلق خدا اور فضا پرچموں سے بھرگئی، ہرطرف وکٹری کے نشان اور نعروں کی گونج‘۔

انگریزی اخبار ڈان نے اپنی شہ سرخی میں لانگ مارچ کو ’وکیلوں اور متحرک سیاسی افراد کا سیلاب کہا‘۔اس اخبارنے لانگ مارچ کی ایک تفصیلی خبر شائع کرنے کے علاوہ پانچ کالم بڑی تصویر لگائی ہے اس کے علاوہ کم از کم صفحہ اول پر لانگ مارچ کی مزید کوئی کوریج نہیں ہے۔ اخبار نے اپنےاداریوں میں بھی لانگ مارچ کو موضوع بحث نہیں بنایا۔

روزنامہ خبریں نے نواز شریف کے بیان کو سپر لیڈ بنایا ہے جس میں نواز شریف نے صدر مشرف کو’قرآن پڑھتی معصوم بچیوں کاقاتل اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے

روزنامہ جنگ کے صفحہ اول پر پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا دوکالم بیان شائع کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے صدرکی رخصتی سمیت بہت سی تبدیلیاں ممکن ہیں‘۔

دی نیوز نے پنڈال کی پانچ کالم تصویر لگا ئی ہے جبکہ اس کی ایک دوکالم خبر اپنے ہی نیوزگروپ کے ٹی وی چینل جیو کے بارے میں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’جیو ٹی وی پر دباؤ مشرف کی جمہوریت مخالف سازشوں کا ثبوت ہے‘۔

بعض اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں شرکاء کی تعداد کا ذکر بھی کیا ہے۔

ڈیلی ٹائمز نے اسے چالیس ہزار کا اجتماع قرار دیا ہے۔اس اخبار نے لانگ مارچ کی خبر سنگل کالم شائع کی ہے۔میڈیا ٹائمز لمیٹڈ کے ہی ایک دوسرے اردو اخبار نے روزنامہ آج کل نے لانگ مارچ کو ہزاروں کا اجتماع قرار دیا ہے۔

ان دونوں اخبارات کی ملکیت کے ایک بڑے حصہ دار گورنر پنجاب سلمان تاثیر ہیں۔گورنر پنجاب نے اپنے تازہ ٹیلی ویژن انٹرویو میں لانگ مارچ کو ایک ناکام شو قرار دیا ہے۔

روزنامہ نوائے وقت کے اداریے کی سرخی لگائی ہے کہ ’لانگ مارچ۔۔۔پارلیمنٹ خود مختاری کا مظاہرہ کرے‘۔اخبار کہتا ہے کہ تین نومبرکے اقدام کی واپسی موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے جس سے انحراف سیاسی غلطی نہیں بلکہ حماقت ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد