BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 April, 2008, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججوں کا بھی احتساب کریں‘

جسٹس صبیح الدین (فائل فوٹو)
جسٹس صبیح الدین ملیر بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کر رہے تھے
سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے ججز کی بحالی پر بات کرتے ہوئےکہا ہے کہ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ آئین اور قانون کا ہے اور جو بھی اس سے روگردانی کرتا ہے اسے خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

انہوں نے پیپلزپارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے بیان کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ مسئلہ ججوں کی ملازمت کا بھی نہیں کیونکہ یہ تو ایک ذمہ داری ہے جسے عقل و فہم اور ایمان کے ساتھ نبھانا ضروری ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس بدھ کو کراچی میں ملیر بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر انہوں نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی تحریک چند ججوں کی بحالی پر ختم نہیں ہوتی، آپ کی تحریک چند افراد کے لیے نہیں ہے، اگر کل ہم بحال بھی ہوجاتے ہیں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ہمارا بھی احتساب کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ جج حضرات قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہیں لوگوں کو انصاف فراہم کرتے ہیں اور وکلاء کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظر رکھیں کہ معاشرے میں آئین اور قانون کی عملداری ہو رہی ہے اور لوگوں کو انصاف مہیا ہورہا ہے، اگر جج حضرات اپنے راستے سے ہٹتے ہیں تو اُن کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

ان کے بقول ’ججوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کریں اور قانون اور آئین کی سربلندی قائم رکھیں، مسئلہ قانون اور آئین کا ہے، مسئلہ افراد کا نہیں اور جو بھی اس سے روگردانی کرتا ہے اسے اس کا خمیازہ بھگتنا ہے۔‘

آصف زرداری اور مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے ججوں کی بحالی کے بارے میں اپنی دو روزہ بات چیت کے اختتام پر منگل کو پنجاب ہاؤس میں ایک نیوز بریفنگ دی تھی جس میں آصف زرداری سے جب پوچھا گیا کہ کیا عدالتِ عظمٰی کے چیف جسٹس کی مدت ملازمت کا معاملہ طے ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی جو کمیٹی بنے گی وہ اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

 آپ کی تحریک چند ججوں کی بحالی پر ختم نہیں ہوتی، آپ کی تحریک چند افراد کے لیے نہیں ہے، اگر کل ہم بحال بھی ہوجاتے ہیں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ہمارا بھی احتساب کریں۔
سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیحالدین

اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے صبیح الدین احمد نے کہا کہ ’مسئلہ ججوں کی ملازمت کا نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک ذمہ داری ہے جو اللہ نے دی ہے، آج جو اس عہدے پر ہے وہ کل نہیں ہوگا، اور ہم میں سے کچھ لوگوں کو معزول کیا گیا اس لیے کہ انہوں نے حکامِ وقت کی توقعات کے مطابق کام نہیں کیا اور اب اگر ان کو ذمہ داری دی جائے گی وہ اپنا فرض نبھائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم میں سے کئی ساتھیوں سے درخواست کی گئی کہ آجائیے، خدارا آجائیے، ہم نے کہا نہیں، ان حالات میں ہم اپنی ذمہ داری نہیں پوری کرسکتے، اس لیے ہم نہیں آئیں گے تو مسئلہ ملازمت کا نہیں ذمہ داری کا ہے تاکہ یہ ذمہ داری عقل و فہم اور ایمان کے ساتھ انجام دی جا سکے اور جو اس میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کا ہر دور میں احتساب ہونا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں بھی غلطی کرسکتا ہوں، کوئی بھی غلطی کرسکتا ہے اور اگر میں غلط کام کرتا ہوں تو مجھے اس کی سزا ملنی چاہیے۔‘

انہوں نے وکلاء تحریک کے حوالے سے کہا کہ اس تحریک میں خوش آئند بات یہ ہے کہ سول سوسائٹی میں شعور پیدا ہوا ہے لوگوں کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ اس ملک میں آئین کا بول بالا اور اس کی بالادستی ہونی چاہیے اس ملک میں سستا انصاف ہونا چاہیے اور یہ ہی ایک زندہ قوم کی نشانی ہوتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید رضوی نے کہا کہ چھبیس اپریل کو کراچی میں ہونے والا وکلاء کنونشن ملتوی کردیا گیا ہے کیونکہ وکلاء اس قسم کا تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ حکومت پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہے ہیں تاہم یہ کنونشن اب مئی کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا تاکہ یہ تاثر بھی قائم نہ ہو کہ وکلاء تحریک کمزور پڑ گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد