BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری ہاؤس کے باہر کیا ہوتا رہا؟

زرداری ہاؤس
فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے زرداری ہاؤس سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک مہنگے سیکٹر ایف ایٹ ٹو میں واقع زرداری ہاؤس آج کل ایک ایسے سینما کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں کسی نئی فلم کے ریلیز ہوتے وقت ’ہاؤس فل نمائش جاری ہے‘ کا کتبہ لگا ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل جب زرداری ہاؤس میں آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی تو ان سے پوچھا کہ یہ کیا ماحول ہے ہر وقت لاتعداد صحافی گلی میں موجود رہتے ہیں کیا آپ تنگ نہیں ہوتے تو انہوں نے کہا تھا کہ اچھی پکچر پر تو رش ہوتا ہی ہے اور ویسے بھی بھلا ایسا ماحول کسے برا لگتا ہے؟

زرداری ہاؤس کو جانے والے تمام راستوں پر سخت سکیورٹی ہے، جگہ جگہ پولیس اہلکار تعینات ہیں، ناکے لگے ہوئے ہیں جبکہ متعلقہ گلی میں تو پھاٹک بھی ہے۔

زرداری ہاؤس کے ساتھ والا مکان اب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا سیکریٹریٹ ہے جبکہ ایک اور مکان سٹاف کے لیے گیسٹ ہاؤس میں تبدیل ہوچکا ہے۔

آندھی ہو یا طوفان یا پھر بارش، زرداری ہاؤس کی کوریج پر مامور صحافی اور حفاظت کے لیے تعینات سپاہی بھیگے کپڑوں اور کیچڑ سے بھرے بوٹوں کی پروا کیے بنا اپنا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ وہاں موجود سپاہیوں اور صحافیوں کو کبھی کبھار برا بھلا کہتے ہوئے بھی سنا جاتا ہے۔

زرداری ہاؤس
زرداری ہاؤس کو جانے والے تمام راستوں پر سخت سیکورٹی ہے اور جگہ جگہ پر ناکے لگے ہوئے ہیں
منگل پانچ اگست کی شام کو جب اسلام آباد کے متعدد علاقوں میں بارش بند تھی تو بھی زرداری ہاؤس کے ارد گرد اچھی خاصی بارش ہورہی تھی۔ اس دوران ایک دوسرے کی چھتریوں تلے بارش سے چھپتے ہوئے صحافیوں کے تبصرے بڑے مزیدار تھے۔

کوئی سگریٹ ختم ہونے کا گلہ کرتے کہتا۔۔۔۔ ’اب تو سگریٹ تک لینے کے لیے نہیں نکل سکتے کہ کہیں پیچھے کچھ ہو نہ جائے‘۔ کسی نے کہا ’یہ لیڈر۔۔۔ خود تو سکون سے اندر بیٹھے ہیں اور ہم کتے کی طرح گلی میں کھڑے ہیں‘۔ کسی نے کہا’پھر بھی شکر کرو شیڈ تو بنادیا ہے پہلے تو یہ بھی نہیں تھا‘۔ جس پر ایک نوجوان صحافی نے اسے کہا ’تمہارے باپ کا شیڈ بھی ٹپک رہا ہے۔۔ یہ بھی ڈھنگ کا نہیں بنوایا‘۔

گلی میں اگر تھوڑی بہت بھی چہل پہل ہوتی ہے تو صحافی اور سپاہیوں کے ایسے کان کھڑے ہوجاتے ہیں جیسے بھوکے شیر کو کوئی شکار نظر آگیا ہو۔

زرداری ہاؤس کے باہر صحافیوں سپاہیوں اور ’جان نثارانِ بینظیر‘ کے لیے کھانے پینے کا تو عام طور پر انتظام ہوتا ہی ہے لیکن ایک صحافی کے بقول جتنا بڑا اجلاس ہوتا ہے اتنا کھانا بھی اچھا ملتا ہے۔ ان کے بقول شام پانچ بجے کا وقت چائے کے لیے مقرر ہے۔

صحافیوں کے بقول جس گلی میں زرداری ہاؤس واقع ہے وہاں کچھ غیر ملکی بھی رہتے تھے لیکن سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے پیش نظر وہ علاقہ چھوڑ گئے ہیں۔ لیکن اب بھی ایک چینی فیملی زرداری ہاؤس کے سامنے والے مکان میں رہتی ہے۔

ان کے مطابق ایک مالدار صحافی نے اس گلی میں ایک مکان خرید لیا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ان کے بقول اس گلی میں زرداری ہاؤس کا واقع ہونا بھی ہے۔

جب سے زرداری ہاؤس کے آس پاس میڈیا نے ڈیرے ڈالے ہیں تو ان سے بچ بچاؤ کے لیے مکینوں نے خفیہ راستے اور دروازے بھی بنالیے ہیں۔ ایسے ہی ایک خفیہ دروازے سے بدھ کو حکمران اتحاد کے اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن صحافیوں کو جُل دے کر نکل گئے۔

اسی بارے میں
کسی حد تک جا سکتے ہیں: شریف
04 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد