زرداری ہاؤس کے باہر کیا ہوتا رہا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک مہنگے سیکٹر ایف ایٹ ٹو میں واقع زرداری ہاؤس آج کل ایک ایسے سینما کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں کسی نئی فلم کے ریلیز ہوتے وقت ’ہاؤس فل نمائش جاری ہے‘ کا کتبہ لگا ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب زرداری ہاؤس میں آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی تو ان سے پوچھا کہ یہ کیا ماحول ہے ہر وقت لاتعداد صحافی گلی میں موجود رہتے ہیں کیا آپ تنگ نہیں ہوتے تو انہوں نے کہا تھا کہ اچھی پکچر پر تو رش ہوتا ہی ہے اور ویسے بھی بھلا ایسا ماحول کسے برا لگتا ہے؟ زرداری ہاؤس کو جانے والے تمام راستوں پر سخت سکیورٹی ہے، جگہ جگہ پولیس اہلکار تعینات ہیں، ناکے لگے ہوئے ہیں جبکہ متعلقہ گلی میں تو پھاٹک بھی ہے۔ زرداری ہاؤس کے ساتھ والا مکان اب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا سیکریٹریٹ ہے جبکہ ایک اور مکان سٹاف کے لیے گیسٹ ہاؤس میں تبدیل ہوچکا ہے۔ آندھی ہو یا طوفان یا پھر بارش، زرداری ہاؤس کی کوریج پر مامور صحافی اور حفاظت کے لیے تعینات سپاہی بھیگے کپڑوں اور کیچڑ سے بھرے بوٹوں کی پروا کیے بنا اپنا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ وہاں موجود سپاہیوں اور صحافیوں کو کبھی کبھار برا بھلا کہتے ہوئے بھی سنا جاتا ہے۔
کوئی سگریٹ ختم ہونے کا گلہ کرتے کہتا۔۔۔۔ ’اب تو سگریٹ تک لینے کے لیے نہیں نکل سکتے کہ کہیں پیچھے کچھ ہو نہ جائے‘۔ کسی نے کہا ’یہ لیڈر۔۔۔ خود تو سکون سے اندر بیٹھے ہیں اور ہم کتے کی طرح گلی میں کھڑے ہیں‘۔ کسی نے کہا’پھر بھی شکر کرو شیڈ تو بنادیا ہے پہلے تو یہ بھی نہیں تھا‘۔ جس پر ایک نوجوان صحافی نے اسے کہا ’تمہارے باپ کا شیڈ بھی ٹپک رہا ہے۔۔ یہ بھی ڈھنگ کا نہیں بنوایا‘۔ گلی میں اگر تھوڑی بہت بھی چہل پہل ہوتی ہے تو صحافی اور سپاہیوں کے ایسے کان کھڑے ہوجاتے ہیں جیسے بھوکے شیر کو کوئی شکار نظر آگیا ہو۔ زرداری ہاؤس کے باہر صحافیوں سپاہیوں اور ’جان نثارانِ بینظیر‘ کے لیے کھانے پینے کا تو عام طور پر انتظام ہوتا ہی ہے لیکن ایک صحافی کے بقول جتنا بڑا اجلاس ہوتا ہے اتنا کھانا بھی اچھا ملتا ہے۔ ان کے بقول شام پانچ بجے کا وقت چائے کے لیے مقرر ہے۔ صحافیوں کے بقول جس گلی میں زرداری ہاؤس واقع ہے وہاں کچھ غیر ملکی بھی رہتے تھے لیکن سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے پیش نظر وہ علاقہ چھوڑ گئے ہیں۔ لیکن اب بھی ایک چینی فیملی زرداری ہاؤس کے سامنے والے مکان میں رہتی ہے۔ ان کے مطابق ایک مالدار صحافی نے اس گلی میں ایک مکان خرید لیا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ان کے بقول اس گلی میں زرداری ہاؤس کا واقع ہونا بھی ہے۔ جب سے زرداری ہاؤس کے آس پاس میڈیا نے ڈیرے ڈالے ہیں تو ان سے بچ بچاؤ کے لیے مکینوں نے خفیہ راستے اور دروازے بھی بنالیے ہیں۔ ایسے ہی ایک خفیہ دروازے سے بدھ کو حکمران اتحاد کے اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن صحافیوں کو جُل دے کر نکل گئے۔ | اسی بارے میں کسی حد تک جا سکتے ہیں: شریف04 August, 2008 | پاکستان زرداری، نواز شریف ملاقات ختم05 August, 2008 | پاکستان مذاکرات ختم، فیصلے کا اعلان آج ہو گا06 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کا دورہِ چین برقرار06 August, 2008 | پاکستان صدر کا دفاع کریں گے: پرویز الہی06 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||