BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کریں‘

شہباز شریف(فائل فوٹو)
اس قرارداد سے صدر مشرف پر سیاسی دباؤ بڑھے گا
پنجاب اسمبلی نے صدر کے اسمبلیاں توڑنے کے اختیار کو ختم کرنے کی سفارش پر مبنی ایک قرار داد منظور کرلی ہے۔ یہ قرارداد مسلم لیگ قاف کے ایک رکن شوکت عزیز بھٹی نے پیش کیا اور اس وقت ایوان میں موجود کسی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی۔

مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی کے علاوہ مسلم لیگ قاف کے چند اراکین نے بھی اس کی حمایت کی جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے اسے منظور کیے جانے کا اعلان کر دیا۔

راجہ شوکت عزیز بھٹی نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی قربانیوں کے بعد جہموریت یہاں تک پہنچی ہے اور جن اسمبلیوں کو عوام کے ووٹوں سے بنایا گیا اسے برطرف کرنے کا اختیار فردِ واحد کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔

فردِ واحد
 بہت سی قربانیوں کے بعد جہموریت یہاں تک پہنچی ہے اور جن اسمبلیوں کو عوام کے ووٹوں سے بنایا گیا اسے برطرف کرنے کا اختیار فردِ واحد کے پاس نہیں ہونا چاہیے
راجہ شوکت عزیز
پنجاب اسمبلی کی اس قرارداد میں قومی اسمبلی سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ قانون سازی کےذریعے آئین کے آرٹیکل اٹھاون ٹوبی کو ختم کرے تاکہ فرد واحد یعنی صدر مملکت کے پاس اسمبلی برطرف کرنے کا اختیار نہ رہے۔

قرار داد کے محرک راجہ شوکت عزیز بھٹی اگرچہ مسلم لیگ قاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں لیکن ایک دوسرے رکن صوبائی اسمبلی نجف سیال کا کہنا ہے کہ وہ مسلم لیگ قاف کے فارورڈ بلاک میں ان کے ساتھی ہیں۔

شوکت عزیز بھٹی نے قرار داد پیش کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ دیگر صوبائی اسمبلیاں بھی ایسی ہی قراردادیں منظور کریں گی تاکہ یہ اختیار عوام کے منتخب ادارے قومی اسمبلی کو منتقل کردیا جائے۔

’قرارداد متفقہ نہیں‘
 یہ قرار داد ایک ایسے وقت میں پیش کی گئی جب مسلم لیگ قاف کے اراکین نماز کے لیے گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس قرار داد کو متفقہ نہیں کہا جاسکتا
چوہدری ظہیر الدین
مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ وہ اس قرار داد کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتیں جدوجہد کررہی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب آمریت کے تابوت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے گا۔

ادھر پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری ظہیرالدین نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرار داد ایک ایسے وقت میں پیش کی گئی جب مسلم لیگ قاف کے اراکین نماز کے لیے گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس قرار داد کو متفقہ نہیں کہا جاسکتا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی اس قرارداد کی کوئی عملی آئینی یا قانونی حثیت تو نہیں ہے البتہ یہ صدر مشرف پر سیاسی دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ ضرور ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد