BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 May, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب گورنر کی حلف برداری

 سلمان تاثیر نگراں وفاقی وزیر رہے ہیں
سلمان تاثیر نگراں وفاقی وزیر رہے ہیں
پنجاب کے نئے گورنر کی حلف برداری کی تقریب جمعہ کو لاہور کے گورنر ہاؤس میں ہو رہی ہے جہاں ایک سیاسی وکاروباری شخصیت سلمان تاثیر سے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گورنر پنجاب کا حلف لے رہے ہیں۔

اس تقریب میں پنجاب کابینہ کے پیپلز پارٹی کے اراکین تو شرکت کریں گے لیکن مسلم لیگ نون کے وزراء بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

بائیکاٹ کرنے والوں میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ دوست محمد کھوسہ سمیت مسلم لیگ نون کے دیگر آٹھ وزراء شامل ہیں۔ پنجاب کے مسلم لیگی وزیر خوراک ملک ندیم کامران نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں پارٹی قیادت نے تقریب میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کوسلمان تاثیر کی بطورگورنر نامزدگی پر تحفظات ہیں۔

گورنر صوبے میں وفاق کانمائندہ ہوتا ہے اور اس کی تقرری کے احکامات صدر پاکستان جاری کرتا ہے۔ پنجاب کے موجودہ گورنر خالد مقبول ایک ریٹائرڈ جنرل ہیں اور سلمان تاثیر کی بطور نئے گورنر تعیناتی کی اطلاعات کے بعد کہا جارہا ہے کہ خالد مقبول نے اپنا استعفی صدر مملکت کو پیش کر دیا ہے۔

 مسلم لیگ نون کے رہنما نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سلمان تاثیر کی نامزدگی سے پہلے انہیں اعتماد میں نہیں لیا اور ان کے بقول نئے گورنر کی تعیناتی صوبے میں اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرانے اور ہارس ٹریڈنگ شروع کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
مسلم لیگ نون کے رہنما نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سلمان تاثیر کی نامزدگی سے پہلے انہیں اعتماد میں نہیں لیا اور ان کے بقول نئے گورنر کی تعیناتی صوبے میں اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرانے اور ہارس ٹریڈنگ شروع کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر خوراک محنت اشرف خان سوہنا نے کہا کہ وہ اور پیپلز پارٹی کے دیگر تمام چھ صوبائی وزیر گورنر ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے۔ مسلم لیگی وزراء کی شرکت نہ کرنے کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومتوں میں اس طرح کی باتیں چلتی رہتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف اور مرکزی رہنما خواجہ آصف کو اس نئی تعیناتی پر اعتماد میں لیا تھا اور انہیں سلمان تاثیر کے نام سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔

مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے ایک نجی ملاقات میں انہیں بتایا کہ تھا نئے گورنر کی تعیناتی کے لیے سلمان تاثیر، خواجہ طارق رحیم اور جہانگیر بدر کے نام ایوان صدر بھجوائے گئے ہیں جس پر خواجہ آصف نے تحفظات کا اظہار کیاتھا۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انہیں محض آگاہ کیا گیا تھا اس عمل کو اعتماد میں لیا جانا قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سلمان تاثیر پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے ہیں اور سن اٹھاسی میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر کامیاب ہونے کے بعد ان دنوں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرتے رہے جب نواز شریف وزیر اعلی تھے۔ انیس سو چھیانوے کے بعد سے سلمان تاثیر پیپلز پارٹی میں کسی بڑے اہم عہدے پر نہیں رہے اور حالیہ عام انتخابات میں نہیں نگران وفاقی وزیر بنایا گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے صوبے میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے سلمان تاثیر جیسی شخصیت کو تعینات کیا ہے کیوں کہ وہ اعلی انتظامی صلاحتیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر بھی سمجھے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد