پنجاب: فوڈ سٹیمپ سکیم کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب حکومت نےغریب آدمی پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بائیس ارب روپے کے ایک منصوبہ کا آغاز کیا ہے جس سے ’ فوڈ سٹیمپ سکیم‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس سکیم کا اعلان وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے جمعہ کی رات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سکیم کے ذریعے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے دیے جائيں گے جس سے وہ آٹا، گھی اور دالیں خرید سکیں گے۔ وزیر اعلیْ پنجاب کے بقول ’ فوڈ سٹیمپ‘ سکیم کے ذریعے پورے پنجاب میں اٹھارہ سے بیس لاکھ خاندان مستفید ہوسکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں کمیٹیاں تشکیل دی جائيں گی جو ایسے لوگوں کی فہرست ترتیب دیں گی جو افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ کمیٹیوں کی طرف فہرستوں کی تیاری اور ان کی جانچ پڑتال کے بعد آئندہ ماہ چودہ اگست کو اس سکیم کا باقاعدہ آغاز کردیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سکیم کی نگرانی کے لیے صوبے کو دو حصوں یعنی شمالی اور جنوبی پنجاب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
وزیراعلیْ پنجاب نے اعلان کیا کہ آئندہ برس صوبائی بجٹ میں فوڈ سٹیمپ سکیم کے مد میں بائیس ارب کی رقم میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں’پرائس کنٹرول‘ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔ شہبازشریف نے صوبے کی سابق حکمران جماعت پر کڑی نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے آج انہیں وسائل کے بجائے مسائل ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمران جماعت نے عوام کی بہتری کے لیے کام کرنے کے بجائے محلات بنائے اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ ایک سوال پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون نے عدلیہ کی بحالی کے لیے وفاقی کابینہ میں شامل ہوئی تھی اور آج بھی ان کی جماعت ججوں کی بحالی کے موقف پر قائم ہے ۔ ان کے بقول اگر پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں ان کی چھوڑی ہوئی وزراتوں پر اپنے وزراء کو مقرر کرنا چاہتی تو وہ شوق سے ایسا کرے ۔ مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی کی حلیف جماعت رہے گی اور اپنی اتحادی جماعت سے مطالبہ کرتی رہی۔ دیگر سوال پر انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسوں کے حوالےسے ایک وائٹ پیپر بھی جاری کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ہنگاموں کا خوف، راشن کی خریداری15 February, 2008 | پاکستان شادی کا کھانا، حکومت کو تنبیہ15 December, 2005 | پاکستان ’خوراک ذخیرہ کرنا پہلی ترجیح‘25 November, 2005 | پاکستان بچوں کے لیے روزے میں کھانا نہیں25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||