BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 July, 2008, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب: فوڈ سٹیمپ سکیم کا اعلان

شہباز شریف
’ فوڈ سٹیمپ‘ سکیم کے ذریعے پورے پنجاب میں اٹھارہ سے بیس لاکھ خاندان مستفید ہوسکیں گے
پنجاب حکومت نےغریب آدمی پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بائیس ارب روپے کے ایک منصوبہ کا آغاز کیا ہے جس سے ’ فوڈ سٹیمپ سکیم‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس سکیم کا اعلان وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے جمعہ کی رات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سکیم کے ذریعے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے دیے جائيں گے جس سے وہ آٹا، گھی اور دالیں خرید سکیں گے۔

وزیر اعلیْ پنجاب کے بقول ’ فوڈ سٹیمپ‘ سکیم کے ذریعے پورے پنجاب میں اٹھارہ سے بیس لاکھ خاندان مستفید ہوسکیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں کمیٹیاں تشکیل دی جائيں گی جو ایسے لوگوں کی فہرست ترتیب دیں گی جو افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ کمیٹیوں کی طرف فہرستوں کی تیاری اور ان کی جانچ پڑتال کے بعد آئندہ ماہ چودہ اگست کو اس سکیم کا باقاعدہ آغاز کردیا جائےگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سکیم کی نگرانی کے لیے صوبے کو دو حصوں یعنی شمالی اور جنوبی پنجاب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

سابق حکومت کی تکتہ چینی
 سابق حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے آج انہیں وسائل کے بجائے مسائل ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمران جماعت نے عوام کی بہتری کے لیے کام کرنے کے بجائے محلات بنائے اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا
شہباز شریف، وزیر اعلیْ پنجاب

وزیراعلیْ پنجاب نے اعلان کیا کہ آئندہ برس صوبائی بجٹ میں فوڈ سٹیمپ سکیم کے مد میں بائیس ارب کی رقم میں اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں’پرائس کنٹرول‘ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔

شہبازشریف نے صوبے کی سابق حکمران جماعت پر کڑی نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے آج انہیں وسائل کے بجائے مسائل ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمران جماعت نے عوام کی بہتری کے لیے کام کرنے کے بجائے محلات بنائے اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔

ایک سوال پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون نے عدلیہ کی بحالی کے لیے وفاقی کابینہ میں شامل ہوئی تھی اور آج بھی ان کی جماعت ججوں کی بحالی کے موقف پر قائم ہے ۔

ان کے بقول اگر پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں ان کی چھوڑی ہوئی وزراتوں پر اپنے وزراء کو مقرر کرنا چاہتی تو وہ شوق سے ایسا کرے ۔

مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی کی حلیف جماعت رہے گی اور اپنی اتحادی جماعت سے مطالبہ کرتی رہی۔

دیگر سوال پر انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسوں کے حوالےسے ایک وائٹ پیپر بھی جاری کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد