مواخذہ: حامیوں اور مخالفین کی تیاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف حکومتی اتحاد کی جانب سے مواخذے کے اعلان کے ساتھ ہی صدر کے حامیوں اور ان کے مخالفین کی سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوگئیں ہیں۔ ان کے حامیوں نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان میں صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ سابق حکمران جماعت پی ایم ایل(ق) نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت کی پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش ناکام بنا سکتی ہے۔ صدر پرویز مشرف اور ان کے ترجمان ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے تو گریزاں ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق جمعہ کو ان کے ہم خیال سیاسی ساتھیوں اور قانونی مشیروں سے خاموش رابطے جاری رہے۔
صدر کی حامی مسلم لیگ (ق) کے ایک مرکزی رہنما کامل علی آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ دس اگست کو لاہور میں ان کی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ان کے مطابق صدر کے مواخذے کو ناکام بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ ادھر صدر کا مواخذہ کامیاب بنانے کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنماؤں کا اجلاس آصف علی زرداری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان، اسحٰق ڈار اور دیگر شریک ہوئے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے حامی اراکین کی دس اگست تک اسلام آباد میں موجودگی یقینی بنائی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں اُس قرار داد کے متن کو بھی حتمی شکل دی گئی جو صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے مطالبے اور ان پر عدم اعتماد کے بارے میں صوبائی اسمبلیوں میں پیش ہونی ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکمران اتحاد کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صدر کے مواخذے کے لیےگیارہ اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا۔ صدر کے مواخذے کی مخالفت میں گزشتہ روز حکمران پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم اور مسلم لیگ (ق) کے حامد ناصر چٹھہ نے بیانات دیے لیکن آج وہ خاموش رہے۔ جمعہ کو ختم ہونے والی کور کمانڈروں کی دو روزہ کانفرنس میں اعلیٰ ملٹری قیادت نے سیاسی صورتحال کے بارے میں کوئی بیان یا تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ پہلے ایسے مواقع پر فوج کو سیاست سے دور رکھنے یا ملک کی اندرونی و بیرونی سلامتی کے لیے فوج کے تیار رہنے جیسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں صدر کا مواخذہ کن وجوہات پر ہو سکتا ہے08 August, 2008 | پاکستان ’تین سو پندرہ کی حمایت کا دعوٰی‘08 August, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی طلب کرنے کا مطالبہ08 August, 2008 | پاکستان مواخذہ: ایوان میں کس کے پاس کتنی سیٹیں07 August, 2008 | پاکستان ’اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کریں‘07 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||