BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 August, 2008, 18:58 GMT 23:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مواخذہ: حامیوں اور مخالفین کی تیاریاں

پرویز مشرف(فائل فوٹو)
صدر نے مواخذے کے اعلان کے بعد اپنے مؤقف کا اظہار نہیں کیا
پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف حکومتی اتحاد کی جانب سے مواخذے کے اعلان کے ساتھ ہی صدر کے حامیوں اور ان کے مخالفین کی سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوگئیں ہیں۔

ان کے حامیوں نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان میں صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

سابق حکمران جماعت پی ایم ایل(ق) نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت کی پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش ناکام بنا سکتی ہے۔

صدر پرویز مشرف اور ان کے ترجمان ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے تو گریزاں ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق جمعہ کو ان کے ہم خیال سیاسی ساتھیوں اور قانونی مشیروں سے خاموش رابطے جاری رہے۔

مواخذے کے خلاف
 ’میں ذاتی طور پر صدر کے پارلیمان کو توڑنے کے اختیار کے خلاف ہوں اور میرے خیال میں یہ اختیار ختم ہونا چاہیے لیکن میں صدر کے مواخذے کے بھی خلاف ہوں
مشاہد حسین
پاکستان کی حکمران جماعت نے صدر مشرف پر الزام لگایا ہے کہ وہ جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے جواب میں اپنا مؤقف نہیں بیان کیا۔ امریکہ نے اسے پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

صدر کی حامی مسلم لیگ (ق) کے ایک مرکزی رہنما کامل علی آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ دس اگست کو لاہور میں ان کی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ان کے مطابق صدر کے مواخذے کو ناکام بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

ادھر صدر کا مواخذہ کامیاب بنانے کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنماؤں کا اجلاس آصف علی زرداری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان، اسحٰق ڈار اور دیگر شریک ہوئے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے حامی اراکین کی دس اگست تک اسلام آباد میں موجودگی یقینی بنائی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں اُس قرار داد کے متن کو بھی حتمی شکل دی گئی جو صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے مطالبے اور ان پر عدم اعتماد کے بارے میں صوبائی اسمبلیوں میں پیش ہونی ہے۔

حکومت کی مصروفیت
 پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے حامی اراکین کی دس اگست تک اسلام آباد میں موجودگی یقینی بنائی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں اُس قرار داد کے متن کو بھی حتمی شکل دی گئی جو صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے مطالبے اور ان پر عدم اعتماد کے بارے میں صوبائی اسمبلیوں میں پیش ہونی ہے
جمعہ کو زرداری ہاؤس میں مشاورتی اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ق) کے اٹھارہ پارلیمینٹیرین نے صدر کے مواخذے کی حمایت کے لیے حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ نہیں کر رہی ۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکمران اتحاد کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صدر کے مواخذے کے لیےگیارہ اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا۔
واضح رہے کہ گیارہ اگست صدر پرویز مشرف کا یوم پیدائش بھی ہے۔

صدر کے مواخذے کی مخالفت میں گزشتہ روز حکمران پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم اور مسلم لیگ (ق) کے حامد ناصر چٹھہ نے بیانات دیے لیکن آج وہ خاموش رہے۔

جمعہ کو ختم ہونے والی کور کمانڈروں کی دو روزہ کانفرنس میں اعلیٰ ملٹری قیادت نے سیاسی صورتحال کے بارے میں کوئی بیان یا تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ یہ معمول کا اجلاس تھا اور اس میں پیشیورانہ امور پر غور کے ساتھ ساتھ برگیڈیئر کے عہدوں سے میجر جنرل کے عہدوں پر ترقی کی منظوری دی گئی ہے۔

پہلے ایسے مواقع پر فوج کو سیاست سے دور رکھنے یا ملک کی اندرونی و بیرونی سلامتی کے لیے فوج کے تیار رہنے جیسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد