BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 August, 2008, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ اسمبلی طلب کرنے کا مطالبہ

ریکیوزیشن پر ایک تہائی اراکین کے دستخط ہونا لازمی ہیں
سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے گورنر کو سمری بھیج دی ہے تاہم سمری پر دستخط نہ ہونے کی صورت میں سپیکر کے ذریعہ اجلاس بلانے کے انتظامات مکمل کر لیےگئے ہیں۔

حکمران جماعت کی جانب سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس گیارہ اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بارہ اگست کو صدر مشرف کو اعتماد کا ووٹ لینے اور اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کے خلاف قرارداد پیش کی جائے گی۔

اس سے قبل سنیچر کو اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم پیپلز پارٹی پارٹی ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ پہلے پنجاب اسمبلی میں اسی نوعیت کی قرار داد پیش ہونی چاہیئے، جس کے بعد سندھ اور دیگر اسمبلیوں میں یہ قرارداد پیش کی جائے۔

پیپلز پارٹی نے اجلاس طلب کرنے کے لیےگورنر کو جو سمری بھیجی جس کا جمعہ کی رات تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ جس کے بعد سپیکر کو ریکیوزیشن دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں گزشتہ دنوں انہوں نے صدر پرویز مشرف سے ملاقات بھی کی تھی۔

قائم مقام اسپیکر شہلا رضا کا کہنا ہے کہ وہ حکمران جماعت کی ریکیوزیشن کا جائزہ لینے کے بعد اسے منظور کریں گی۔اس کے لیے قانون کے تحت ریکیوزیشن پر ایک تہائی اراکین کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔

اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دو قراردادیں پیش کی جائیں گی، ایک صدر کے 58 ٹو بی کے اختیارات کے خلاف ہو گی اور دوسری میں صدر سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا جائےگا۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے قبل سنیچر کو پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا بھی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں حکمت عملی طے کی جائے گی۔سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کو عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہیئے۔

شہلا رضا کا کہنا ہے کہ وہ حکمران جماعت کی ریکیوزیشن کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گی

انہوں نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ حکومت میں ان کے ساتھ جو بھی جماعتیں شامل ہیں وہ بھی اس مواخدہ کے لیے تعاون کریں گی کیونکہ تمام جماعتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور سیاسی سماجی اور معاشی مسائل جن میں آئینی مسائل بھی شامل ہونے چاہئیں انہیں اکٹھے حل کریں گے۔

قائم علی شاہ کے مطابق عوام کے مسائل کے حل کے لیئے یہ فیصلہ بڑا مدد گار ثابت ہوگا اور غیر یقینی کے تاثر کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت مضبوط ہے اس کوئی خطرہ نہیں کیونکہ یہ عوام کی تائید اور حمایت کے ساتھ آئی ہے ۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ بھی حکومت میں شامل ہے، جن میں سے ایم کیو ایم کا صدر کے مواخذے کی حمایت یا مخالفت کے حوالے سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ سندھ میں دوسری بڑی جماعت ہے جس کے پاس اکاون نشستیں ہیںجبکہ قومی اسمبلی میں پچیس نشستوں کے ساتھ وہ چوتھی بڑی جماعت ہے۔ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایم کیو ایم کی چھ نشستیں ہیں۔

اسی بارے میں
صدر مشرف: 1999 سے لیکر 2008 تک
07 August, 2008 | پاکستان
نیب کے خلاف متفقہ قرار داد
08 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد