BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 22:49 GMT 03:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف: 1999 سے لیکر 2008 تک
صدر مشرف
صدر مشرف نے ایک فوجی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا
صدر مشرف 1999 میں ایک ایسی فوجی بغاوت کے بعد برسرِ اقتدار آئے جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو چلتا کیا اور وعدہ کیا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت لائیں گے۔

انہوں نے واشنگٹن اور نیو یارک پر 2001 کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کرنے کی پیشکش کی اور اس طرح ایک فوجی آمر راتوں رات صدر بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار بن گیا۔ تاہم تجزیہ نگاروں نے پشین گوئی کرنا شروع کر دی کہ ان کا امریکہ سے یہ قریبی تعلق پاکستان میں اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ ٹکراؤ کا سبب بنے گا۔

ان پر دو مرتبہ خطرناک حملے ہوئے مگر خوش قسمتی ان کے ساتھ رہی اور وہ دونوں مرتبہ صاف بچ گئے۔

مشرف کا سی وی
مشرف کی زندگی پر دو مرتبہ حملہ ہو چکا ہے
۔ 11 اگست 1943 کو دلی میں پیدا ہوئے
۔ شادی شدہ اور دو بچوں کے باپ
۔ 1965 کی جنگ میں ہندوستان کے خلاف لڑے
۔ برطانیہ میں رائل کالج آف ڈیفنس میں تعلیم حاصل کی
۔ 1998 میں جنرل بنے
۔ 1999 میں فوجی بغاوت میں منتخب وزیرِ اعظم کا تختہ الٹ دیا

گزشتہ سال جولائی میں انہوں نے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں فوجی آپریشن کا حکم دیا تاکہ ان طلب علموں اور مولویوں کو قابو کیا جا سکے جو ملک میں مبینہ طور پر شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس فوجی آپریشن میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم غیر سرکاری ذرائع اس کی تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔

صدر مشرف کے مسائل صرف سخت گیر اسلامی موقف رکھنے والوں کے ساتھ ہی نہیں رہے۔ اصلاحات کی سست رفتار اور صدر کے ساتھ ساتھ فوجی سربراہ رہنے کی خواہش نے بھی صدر مشرف کی مخالفت کو ہوا دی۔

انہوں نے ملک میں ایمرجنسی لگائی اور چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے کئی ججوں کو معطل کیا تاکہ کہیں وہ ان کے دوبارہ صدر بننے کے خلاف فیصلہ نہ دے دیں۔

تاہم گزشتہ نومبر حزبِ اختلاف کے شدید دباؤ میں انہوں نے فوجی سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد قوم کا غصہ ایک مرتبہ پھر ان پر نکلا اور فروری میں ہونے والے انتخابات سے ابتک، جن میں ان کی اتحادی جماعت بری طرح ناکام رہی، وہ زیادہ تر پسِ پردہ رہے۔

اگرچہ آئینی طور پر صدر مشرف اب بھی پارلیمان تحلیل کر سکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اب یہ ان کے بس میں نہیں رہا اور وہ اپنی آخری جنگ پہلے ہی لڑ چکے ہیں۔

پرویز مشرف(فائل فوٹو)برخاستگی کی تاریخ
جناح کے علاوہ سب غیر معمولی حالات میں گئے
 قومی اسمبلیدو تہائی اکثریت
مواخذہ: ایوان میں کس کے پاس کتنی سیٹیں
زرداری کا انٹرویو
زرداری ایوان صدر سے تصادم کے راستے پر؟
افواہیں غلط: مشرف
امریکہ یا ترکی نہیں جا رہا ہوں: صدر مشرف
مشرف کا مستقبل
’حکمران اتحاد ٹوٹا تو صدر کی نوکری پکی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد