BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مواخذے کے مشترکہ اعلامیے کا متن
نواز شریف اور آصف علی زرداری
ججوں کی بحالی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے پی پی پی نے پی ایم ایل نواز سے کابینہ میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے
اسلام آباد میں حکمران اتحاد کی جانب سے صدر کے مواخذے کے لیے جو مشترکہ اعلانیہ جاری کیا گیا اس کا متن درج ذیل ہے۔

حکمران اتحاد نےگزشتہ تین روز کے دوران کراچی اور اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمہوری قوتیں حقیقی جمہوریت کی طرف پیش رفت کے لیے مِل کر کام کریں گی۔

اتحاد نے محسوس کیا کہ اٹھارہ فروری کو پاکستان کے عوام نے، جمہوری قوتوں اور صدر مشرف کی کنگز پارٹی کو شکست دے کر تبدیلی کے حق میں، واضح مینڈیٹ دیا تھا۔ اپنی واضح یقین دہانی کے باوجود کہ ان کی جماعت کی انتخابات میں شکست کی صورت میں وہ مستعفی ہو جائیں گے، وہ صدر کے عہدے سے چمٹے ہوئے ہیں۔

اکتوبر دو ہزار سات میں انتخابی مدت کرنے والے پارلیمان سے ان کے انتخاب کی آئینی حیثیت سے قطع نظر انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ نئی آنے والی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے، جس میں وہ ناکام رہے۔ وہ آئین کے آرٹیکل چھپن کے تقاضے کے مطابق نئی پارلیمان سے خطاب کرنے میں بھی ناکام رہے۔

گزشتہ آٹھ سال میں جنرل پرویز مشرف کی اقتصادی پالیسیوں نے پاکستان کو غیر معمولی اقتصادی تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ ان کی پالیسیوں کی ناکامی کی وجہ سےملک کواپنی تاریخ کےتوانائی کےسب سے بڑے بحران سےدوچار کر دیا ہے۔

ان کی پالیسیوں نے وفاق کو کمزور کیا ہےاور قوم کا قومی اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے انتخابات میں عوام کے ہاتھوں مسترد ہونے والی کِنگز پارٹی کے ساتھ مِل کر جمہوریت کی طرف سفر کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ اس لیے اور نو منتخب اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کرنے کی وجہ سے حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت کا خیال ہے کہ صدر پرویز مشرف کا آئین کے آرٹیکل سینتالیس کے تحت مواخذہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے چاروں صوبائی اسمبلیاں ایک قرارداد کے ذریعے صدر پرویز مشرف سے سپریم کورٹ میں دیے گئے اپنے بیان کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہیں گی۔ حکمران اتحاد نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مواخذے کی کارروائی شروع کرے گا۔ اتحاد کی قیادت صدر مشرف کے خلاف الزامات کی فہرست جاری کرے گی۔

اتحاد کی قیادت نے یہ بھی فیصلہ کیا تین نومبر دو ہزار سات میں ماورائے آئین طریقوں سے ہٹائے گئے تمام ججوں کو اعلانِ مری کے تحت صدر کے مواخذے کے فوراً بعد بحال کر دیا جائے گا۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اعلان جمہوریت پر عمل درآمد کیا جائے گا، مِل کر ملک کو آئینی حکمرانی کی طرف لے جایا جائے گا، آئین کی بالادستی بحال کی جائے گی، عدلیہ کی آزادی قائم کی جائے گی، قانون کی حکمرانی ہوگی، اکتیس مارچ دو ہزار آٹھ کو ورثے میں ملنے والی اقتصادی صورتحال سے نمٹا جائے گا، مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور لوڈ شیڈنگ سے نمٹا جائے گا۔ اتحاد نے فاٹا اور صوبۂ سرحد کی غیر یقینی صورتحال کو پارلیمان میں اتفاق رائے سے طے کی گئی پالیسیوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔

حکمران اتحاد نے واضح عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کی جائے گی۔ اس کے لیے اعلان جمہوریت میں انیس سو تہتر کے آئین کے تحت حقیقی وفاقی پارلیمانی نظام کی بحالی کے فیصلے کی طرف قدم کے طور پر سترہویں ترمیم کو ختم کیا جائے گا۔

حکمران اتحاد کے اعلان مری کے مطابق ججوں کی بحالی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے پی پی پی نے پی ایم ایل نواز سے کابینہ میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔

زداری ہاؤسبیرونی منظر
سیاسی مذاکرات کے دوران باہر کیا ہوتا رہا؟
آگےدیوارپیچھےگڑھا
آئی ایس آئی اور گیلانی حکومت کی مشکل
نقصان زیادہ، فائدہ کم
وزیر اعظم گیلانی کے امریکی دورے کا کیا بنا؟
. . . اور کتنی دور ہے
پاکستان، حکمراں اتحاد کے رہنماؤں کا اجلاس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد