مواخذے کے اعلان پر ملا جلا ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے حکمران اتحاد کی جانب سے صدر مشرف کے مواخذے کے اعلان پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے اور جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس اعلان کا محتاط انداز سے خیر مقدم کیا گیا ہے وہیں ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ ملک کو صدر مشرف کے مواخذے سے بڑے مسائل درپیش ہیں۔ اپوزیشن اتحاد اے پی ڈی ایم کی ایک بڑی پارٹی جماعت اسلامی کے صوبہ پنجاب کے امیر لیاقت بلوچ نے بی بی سی اردو کے علی سلمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اعلان جمہوری قوتوں کے لیے خوشی کی بات ہے لیکن کہیں اس کا حال بھی وہی نہ ہو جائے جو مری اعلامیے کا ہوا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعتیں اپنے اقدامات میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہیں جس کا نقصان ہو سکتا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ صرف اس اعلان میں ہی تین دن لگا دیے گئے ہیں اور اگر تمام اتحادی جماعتیں صدر کے مواخذے پر راضی ہیں تو پھر انہیں صوبائی اسمبلیوں کی قراردادوں میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں تھی وہ رات کو ہی مواخذے کی تحریک جمع کرا دیتے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے رہنما امین فہیم نے کہا کہ’ملک کی موجودہ صورتحال کسی تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی اور صدر کے مواخذے کی بات آ بیل مجھے مار والی بات ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عوام مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور حکمرانوں کو ان کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جب مواخذے کی تحریک پیش ہوگی تو وہ تب فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ بی بی سی کراچی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق حکمران اتحاد کی جانب سے صدر پرویز مشرف کے مواخذے اور تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کا با ضابطہ موقف سامنے نہیں آیا اور پاکستان میں موجود قیادت کے ٹیلیفون یا تو بند تھے یا ان سے جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔ تاہم ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی لندن اور کراچی میں رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ادھر لندن سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ’سارا زور اس بات پر لگایا جارہا ہے کہ صدر آئینی ہیں یا غیر قانونی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر صدر مشرف غیر آئینی ہیں تو اصولی طور پر ان کی صدارت میں ہونے والے تمام انتخابات بھی غیر آئینی ہیں۔ ان انتخابات کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلیاں بھی غیر آئینی ہیں۔ اس طرح صدر یا ان کے نامزد کردہ گورنر سے وزارت کا حلف اٹھانا بھی غیر آئینی ہے، لہذا اس اصول کے تحت صدر مشرف کے مواخذے کے ساتھ غیر آئینی عمل کے مرتکب ہونے والے سیاسی رہنماؤں کا بھی مواخذہ ہونا چاہیے‘۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے صدر کے مواخذے پر مبنی اتحادی جماعتوں کے فیصلوں کو سراہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بہتر ہوتا کہ اس سے پہلے وہ ججوں کو بحال کر دیتے۔ عمران خان کا یہ بیان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عمر چیمہ نے جاری کیا ہے۔ خود عمران خان ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت نے صدر مشرف کی موجودگی اور آزاد عدلیہ کے نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا اور اگر اتحادی جماعتیں یہ دونوں کام کرگزریں تو وہ ان کا خیر مقدم کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہی دونوں لیڈر چار مہینے پہلے بھی ایک اعلان مری کر چکے ہیں جس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور یہ ایک نیا اعلان مری بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ لوگ مخلص ہیں تو انہوں نے کوئی ٹائم فریم کیوں نہیں دیا اور اگر ان جماعتوں کی پارلیمنٹ میں اکثریت ہے تو انہوں نے پہلے اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ کیوں نہیں کیا؟ تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات عمر چیمہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس اور غیرملکیوں کی ثالثی میں ہونے والی ڈیلیں صدر مشرف کے مواخذے کے راستے میں حائل رہیں گی۔ لندن سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق الطاف حسین نے جمعرات کو مختلف وفود سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں کو نہ عوام کی بھوک نظر آتی ہے، نہ طوفان سے تباہ ہونے والے لوگ اور نہ ہی ملک کو درپیش اندرونی وبیرونی خطرات ۔ متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سارا زور اس بات پر لگایا جارہا ہے کہ صدر آئینی ہیں یا غیر قانونی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر صدر مشرف غیر آئینی ہیں تو اصولی طور پر ان کی صدارت میں ہونے والے تمام انتخابات بھی غیر آئینی ہیں۔ ان انتخابات کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلیاں بھی غیر آئینی ہیں۔ اس طرح صدر یا ان کے نامزد کردہ گورنر سے وزارت کا حلف اٹھانا بھی غیر آئینی ہے، لہذا اس اصول کے تحت صدر مشرف کے مواخذے کے ساتھ غیر آئینی عمل کے مرتکب ہونے والے سیاسی رہنماوں کا بھی مواخذہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے کہا کہ وہ ملک کو مزید بحرانوں کا شکار کرنے کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دیں۔ مسلم لیگ(ق) کے سابق وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اٹھاون ٹوبی کا استعمال فوج کی حمایت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اتحادی جماعتوں کے پاس مواخذے کے لیے مطلوبہ اکثریت موجود نہیں ہے اسی لیے انہوں نے ایک لمبا راستہ اپنایا ہے۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ حکمران اتحاد کے پاس سات آٹھ ووٹ کم ہیں ورنہ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک جمع کرانے میں وہ ایک روز بھی نہ لگاتے۔ انہوں نے کہا حکمران اتحاد معاملہ کو بندگلی میں لے گیا ہے اب چاہے مواخذہ کامیاب ہویا ناکام ایک بڑی تبدیلی ملک کا راستہ دیکھ رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’ججز بحالی، اعلانِ مری سے بھی پیچھے‘07 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے مواخذے کا اعلان07 August, 2008 | پاکستان صدر کی جگہ اب وزیراعظم جائیں گے07 August, 2008 | پاکستان مواخذے کا’اصولی فیصلہ‘، مسودہ تیار07 August, 2008 | پاکستان ’اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کریں‘07 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||