BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 16:34 GMT 21:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مواخذہ: ایوان میں کس کے پاس کتنی سیٹیں

قومی اسمبلی
حکمراں اتحاد کو دونوں ایوانوں میں تین سو سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے

پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) سمیت دیگر جماعتوں پر مشتمل حکمران اتحاد نے پاکستان کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مواخذے کا عمل شروع کرنے کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پچاس فیصد اکثریت درکار ہوتی ہے اور جب مواخذے کی قرارداد پیش کی جائے تو اسے منظور کرنے کے لیے مشترکہ ایوان میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مجموعی اراکین کی تعداد چار سو بیالیس ہے جن میں قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس اور سینیٹ کے سو ارکان شامل ہیں۔صدر کے مواخذے کے لیے حکمران اتحاد کو ان میں سے کم از کم دو سو پچانوے ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

یاد رہے کہ اس وقت قومی اسمبلی میں کل 339 ارکان موجود ہیں جبکہ دو حلقوں کا نتیجہ عدالتی حکم پرروکا گیا ہے جبکہ ایک حلقے میں انتخاب ملتوی کر دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی کی موجودہ پارٹی پوزیشن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے جس کے کل اراکین کی تعداد ایک سو چوبیس ہے جن میں نوے منتخب ارکان، تئیس نامزد خواتین ارکان اور چار اقلیتی ارکان شامل ہیں جبکہ سات آزاد ارکان نے پی پی پی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

حکمران اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ(ن) ایوانِ زیریں کی دوسری بڑی جماعت ہے جس کے کل اکانوے اراکین قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔ ان اراکین میں سے سڑسٹھ منتخب ارکان ہیں جبکہ خواتین کے کوٹے سے مسلم لیگ(ن) کی سترہ خواتین ایوان میں پہنچی ہیں اور اقلیتی کوٹے میں مسلم لیگ(ن) کے پاس تین ارکان ہیں جبکہ چار آزاد ارکان نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

 اس وقت دونوں ایوانوں میں حکمراں اتحاد کو ایک محتاط اندازے کے تحت تین سو سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکمران اتحاد مطلوبہ ارکان کی حمایت کا وہ ہدف حاصل کر پائے گا جو کہ صدر کے مواخذے کے لیے ضروری ہے۔

صدر مشرف کی حمایتی مسلم لیگ(ق) ایوانِ زیریں کی تیسری بڑی جماعت ہے جسے 54 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ ایوان میں متحدہ قومی موومنٹ پچیس ارکان کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت ہے۔حکمران اتحاد کی تیسری جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے پاس تیرہ ارکان ہیں۔

اس کے علاوہ ایوان میں ایم ایم اے کے پاس سات، پاکستان مسلم لیگ(ف) کے پاس پانچ، جبکہ پیپلز پارٹی شیر پاؤ، نیشنل پیپلز پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے پاس ایک ایک نشست ہے۔ ایوان میں اس وقت سترہ آزاد اراکین ہیں۔

سینیٹ میں پارٹی پوزیشن پر نظر ڈالی جائے تو سو اراکین کے ایوان میں صدر کی حمایتی مسلم لیگ(ق) سب سے بڑی جماعت ہے جس کے پاس اڑتیس اراکین ہیں۔ ایم ایم اے سترہ ارکان کے ساتھ دوسرے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پالیمنٹیرئنز نو ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

سینیٹ میں ایم کیو ایم کے نو جبکہ مسلم لیگ(ن) کے چھ اراکین ہیں جبکہ آزاد سینیٹرز کی تعداد بارہ ہے۔ پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور پی پی پی کے پاس تین جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے پاس ایوانِ بالا میں دو نشستیں ہیں۔اس کے علاوہ مسلم لیگ(ف)، جمیعت علمائے اسلام(ف)، جمہوری وطن پارٹی، بی این پی(عوامی)، اور بی این پی مینگل کے پاس ایک ایک نشست ہے۔

مواخذے کے حوالے سے نظر ڈالی جائے تو اس وقت دونوں ایوانوں میں حکمراں اتحاد کو ایک محتاط اندازے کے تحت تین سو سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے جو کہ صدر کے مواخذے کے لیے مطلوبہ تعداد دو تہائی اکثریت یا دو سو پچانوے اراکین سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد